خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 409

409 $2003 خطبات مسرور کمرہ میں رہتے تھے۔وہ (اہلیہ حضرت ڈاکٹر صاحب) نیچے گئیں۔ڈاکٹر صاحب شاید وہاں نہ تھے۔کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا تو وہ آگئے۔جب وہ آئے تو انہوں نے اس رنگ میں ان سے بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جب کوئی داخل ہوتا ہے تو بعض دفعہ اس کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے؟ ان کو اس وقت دو خیال تھے کہ شاید ان کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کو یہ رشتہ کرنے میں تامل ہو۔ایک تو یہ کہ اس سے قبل ان کے خاندان کی کوئی لڑکی غیر سید کے ساتھ نہ بیاہی گئی تھی۔اور دوسرے یہ کہ مبارک احمد ایک مہلک بیماری میں مبتلا تھا۔اور ڈاکٹر صاحب مرحوم خود اس کا علاج کرتے تھے۔اور اس وجہ سے وہ خیال کریں گے کہ یہ شادی ننانوے فیصد خطرہ سے پُر ہے۔اور اس سے لڑکی کے ماتھے پر جلد ہی بیوگی کا ٹیکہ لگنے کا خوف ہے۔ان باتوں کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے گھر والوں کو یہ خیال تھا کہ ایسا نہ ہوڈاکٹر صاحب کمزوری دکھائیں۔اور ان کا ایمان ضائع ہو جائے اس لئے انہوں نے پوچھا کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے۔ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ استقامت عطا کرے گا۔اس پر والدہ مریم بیگم مرحومہ نے ان کی بات سنائی اور بتایا کہ اس طرح میں اوپر گئی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مریم کی شادی مبارک احمد سے کر دیں۔یہ بات سن کر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اچھی بات ہے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ پسند ہے تو ہمیں اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ان کا یہ جواب سن کر مریم بیگم مرحومہ کی والدہ، اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو ہمیشہ بڑھاتا چلا جائے ، رو پڑیں۔اور بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا۔کیا تم کو یہ تعلق پسند نہیں؟۔انہوں نے کہا مجھے پسند ہے۔بات یہ ہے کہ جب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکاح کا ارشاد فرمایا تھا، میرا دل دھڑک رہا تھا اور میں ڈرتی تھی کہ کہیں آپ کا ایمان ضائع نہ ہو جائے۔اور اب آپ کا جواب سن کر میں خوشی سے اپنے آنسو روک نہیں سکی۔چنانچہ یہ شادی ہوگئی اور کچھ دنوں کے بعد ( جیسا کہ بیماری شدید تھی) وہ لڑکی بھی بیوہ ہو گئی۔اب دیکھیں اللہ تعالیٰ نے بھی ڈاکٹر صاحب کے اخلاص کو ضائع نہیں کیا اور حضرت مصلح موعودؓ سے ان کی