خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 309

309 $2003 خطبات مسرور اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یقینا اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر (اور ) شیخی بگھارنے والا ہو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف اپنے بھائیوں ، عزیزوں، رشتہ داروں، اپنے جاننے والوں ، ہمسایوں سے حسن سلوک کرو، ان سے ہمدردی کرو اور اگر ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو اُن کی مدد کرو، ان کو جس حد تک فائدہ پہنچا سکتے ہو فائدہ پہنچاؤ بلکہ ایسے لوگ ایسے ہمسائے جن کو تم نہیں بھی جانتے تمہاری ان سے کوئی رشتہ داری یا تعلق داری بھی نہیں ہے جن کو تم عارضی طور پر ملے ہوان کو بھی اگر تمہاری ہمدردی اور تمہاری مدد کی ضرورت ہے، اگر ان کو تمہارے سے کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے تو ان کو ضرور فائدہ پہنچاؤ۔اس سے اسلام کا ایک حسین معاشرہ قائم ہوگا۔ہمدردی مخلق اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا وصف اور خوبی اپنے اندر پیدا کر لو گے اور اس خیال سے کر لو گے کہ یہ نیکی سے بڑھ کر احسان کے زمرے میں آتی ہے اور احسان تو اس نیت سے نہیں کیا جاتا کہ مجھے اس کا کوئی بدلہ ملے گا۔احسان تو انسان خالصتا اللہ تعالیٰ کی خاطر کرتا ہے۔تو پھر ایسا حسین معاشرہ قائم ہو جائے گا جس میں نہ خاوند بیوی کا جھگڑا ہوگا، نہ ساس بہو کا جھگڑا ہوگا، نہ بھائی بھائی کا جھگڑا ا ہوگا، نہ ہمسائے کا ہمسائے سے کوئی جھگڑا ہوگا، ہر فریق دوسرے فریق کے ساتھ احسان کا سلوک کر رہا ہوگا اور اس کے حقوق اسی جذبہ سے ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہوگا۔اور خالصتا اللہ تعالیٰ کی محبت ، اس کا پیار حاصل کرنے کے لئے ، اس پر عمل کر رہا ہو گا۔آج کل کے معاشرہ میں تو اس کی اور بھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اگر یہ باتیں نہیں کرو گے، فرمایا: پھر متکبر کہلاؤ گے اور تکبر کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں کیا۔تکبر ایک ایسی بیماری ہے جس سے تمام فسادوں کی ابتدا ہوتی ہے۔شرط میں اس بارہ میں تفصیل سے پہلے ہی ذکر آچکا ہے اس لئے یہاں تکبر کے بارہ میں تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ہمدردی مخلق کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ بنو اور دونوں جہانوں کی فلاح حاصل کرو۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا