خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 260 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 260

$2003 260 خطبات مسرور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے حاکم سے ناپسندیدہ بات دیکھے اور وہ صبر کرے۔کیونکہ جو نظام سے بالشت بھر جدا ہوا اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔(صحیح مسلم کتاب الاماره باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين۔۔۔۔۔۔پھر ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ لہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کو ضلالت اور گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔اللہ تعالیٰ کی مدد جماعت کے ساتھ ہوا کرتی ہے۔جو شخص جماعت سے الگ ہواوہ گویا آگ میں پھینکا گیا۔(ترمذى كتاب الفتن باب ما جاء في لزوم الجماعة تو ہمیشہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ جو بھی صورت حال ہو ہمیشہ صبر کرنا ہے۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ صبر ہمیشہ حق تلفی کے احساس پر ہی انسان کو ہوتا ہے۔اب یہاں احساس کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ اکثر جس کے خلاف فیصلہ ہو اس کو یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہوا ہے اور میرا حق بنتا تھا۔تو یہ خیال دل سے نکال دیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نیچے سے لے کر اوپر تک سارا نظام جو ہے غلط فیصلے کرتا چلا جائے اور یہ بدظنی پھر خلیفہ وقت تک پہنچ جاتی ہے۔اگر ہر احمدی کے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان رہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأَوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (سورۃ النساء آیت ۲۰)۔اس کا ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی۔اور اگر تم کسی معاملہ میں (اولو الامر سے اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو اگر (فی الحقیقت) تم اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہت بہتر ( طریق) ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔تو سوائے اس کے کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے جہاں واضح شرعی احکامات کی خلاف ورزی کے لئے تمہیں کہا جائے، اللہ اور رسول کی اطاعت اسی میں ہے کہ نظام جماعت