خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 179
179 $2003 خطبات مسرور ان کا داہنا ہاتھ شہید ہو گیا لیکن فوراً بائیں ہاتھ سے علم کو پکڑ لیا۔اس وقت ان کی زبان پر یہ آیت جاری تھی: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل۔ابن قمیہ نے دوسرا وار کیا تو بایاں ہا تھ بھی قلم ہو گیا۔آپ نے دونوں بازوؤں کا حلقہ بنا کر علم کو سینے سے چمٹا لیا۔اُس نے تلوار پھینک دی اور زور سے نیزہ مارا کہ نیزے کی انی ٹوٹ کر سینے میں رہ گئی اور اسلام کا سچا فدائی اسی آیت کا ورد کرتے ہوئے اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گیا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد المجلد الثالث ذكر مصعب بن عمیر۔داراحیاء التراث العربيـ بيروت لبنان) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر جنگ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے اور اس کا ان کو بڑا افسوس ہوا تھا۔آپ نے ایک دفعہ کہا: اے اللہ تعالیٰ کے رسول ! پہلی جنگ جو آپ نے مشرکین سے لڑی ، اس میں میں شامل نہیں ہو سکا۔اگر اللہ تعالیٰ نے آئندہ کبھی مجھے مشرکین سے جنگ کرنے کا موقعہ دیا تو میں اللہ تعالیٰ کو دکھاؤں گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔لوگ ان کی اس بات سے تعجب کرتے۔پھر جب اُحد کی لڑائی ہوئی تو ایک ایسا موقعہ آیا کہ مسلمان بکھر گئے اور ان کی صفیں قائم نہ رہ سکیں۔اس پر انس نے کہا : اے میرے اللہ ! میں تیرے حضور ان لوگوں ( یعنی صحابہ ) کے کئے کی معذرت چاہتا ہوں اور دشمنوں یعنی مشرکین کے ظالمانہ سلوک سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔مطلب یہ تھا کہ صحابہ سے جو غلطی ہوئی ان کو معاف کر دے)۔پھر وہ آگے بڑھے تو ان کو سعد بن معاد ملے۔انس بن نضر نے ان سے کہا اے سعد! دیکھو جنت قریب ہے۔رب کعبہ کی قسم ! مجھے اُحد کے ادھر سے اس کی خوشبو آ رہی ہے۔حضرت سعد نے یہ واقعہ آنحضرت ﷺ سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ انس نے کہا اور کر دکھایا، میں ایسا نہ کر سکا۔حضرت انس جو اس واقعہ کے راوی ہیں بیان کرتے ہیں کہ ہم نے چا (انس) کو ایسی حالت میں شہید پایا کہ ۸۰ سے کچھ اوپر تلوار، نیزہ یا تیر کے ان کو زخم آئے تھے۔مشرکین نے ان کی شکل بگاڑ دی ہوئی تھی۔سوائے ان کی بہن کے کوئی ان کی نعش کو نہ پہچان سکا جس نے انگلیوں کے