خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 150

150 $2003 (خطبه جمعه فرموده ۱۰ / فروری ۱۹۸۹ء) خطبات مسرور جو قریب کا دیکھنے والا ہے اُس کو زیادہ لگتا ہے۔اس لئے اکثر وہ لوگ جو نظام جماعت پر تبصرے کرنے میں بے احتیاطی کرتے ہیں، ان کی اولادوں کو کم و بیش ضرور نقصان پہنچتا ہے۔اور بعض ہمیشہ کے لئے ضائع ہو جاتی ہیں۔واقفین بچوں کو سمجھانا چاہئے کہ اگر تمہیں کسی سے کوئی شکایت ہے خواہ تمہاری تو قعات اس کے متعلق کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اس کے نتیجے میں تمہیں اپنے نفس کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ان کو سمجھائیں کہ اصل محبت تو خدا اور اس کے دین سے ہے۔کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے خدائی جماعت کو نقصان پہنچتا ہو۔آپ کو اگر کسی کی ذات سے تکلیف پہنچی ہے یا نقصان پہنچا ہے تو اس کا ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ کو حق ہے کہ اپنے ماحول، اپنے دوستوں، اپنے بچوں اور اپنی اولاد کے ایمانوں کو بھی آپ زخمی کرنا شروع کر دیں۔اپنے زخم حو صلے کے ساتھ اپنے تک رکھیں اور اس کے اندمال کے جو ذرائع با قاعدہ خدا تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں ان کو اختیار کریں۔پھر ایک عام بات ہے جس کی طرف والدین کو توجہ دینی ہوگی۔وہ ہے اپنے بچوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کریں، انہیں متقی بنا ئیں۔اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک والدین خود متقی نہ ہوں۔یا متقی بنے کی کوشش نہ کریں۔کیونکہ جب تک عمل نہیں کریں گے منہ کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔اگر بچہ دیکھ رہا ہے کہ میرے ماں باپ اپنے ہمسایوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے،اپنے بہن بھائیوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں۔ذرا ذراسی بات پر میاں بیوی میں ، ماں باپ میں ناچاقی اور جھگڑے شروع ہو رہے ہیں۔تو پھر بچوں کی تربیت اور ان میں تقویٰ پیدا کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔اس لئے بچوں کی تربیت کی خاطر ہمیں بھی اپنی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔بچوں میں تقویٰ کس طرح پیدا کیا جائے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔واقفین نو بچوں کو بچپن ہی سے متقی بنا ئیں اور ان کے ماحول کو پاک اور صاف رکھیں۔ان کے ساتھ ایسی حرکتیں نہ کریں جن کی وجہ سے ان کے دل دین سے ہٹ کر دنیا کی طرف مائل ہونے لگ جائیں۔پوری توجہ ان پر اس طرح دیں جس طرح ایک بہت ہی عزیز چیز کو ایک بہت ہی عظیم مقصد کے لئے تیار کیا جارہا ہو اور اس طرح ان کے دل میں تقویٰ بھر جائیں پھر یہ آپ کی ہاتھ