خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 146

$2003 146 خطبات مسرور سامنے سے کھائیں، ڈش میں سے سالن اگر اپنی پلیٹ میں ڈالنا ہے تو اتنی مقدار میں ڈالیں جو کھایا جائے۔دوبارہ ضرورت ہو تو دوبارہ ڈال دیا جائے۔دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا ہے، کھانا ختم کرنے کے بعد کی دعا۔تو یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں تو بہر حال بچپن سے ہی وقف نو بچوں کو تو خصوصاً اور عموماً ہر ایک کو سکھانی چاہئیں۔تو بہر حال یہ جو مدرستہ الحفظ کی میں نے مثال دی ہے اللہ کرے کہ یہ سلسلہ جو انہوں نے تربیت کا شروع کیا ہے جاری رہے اور والدین بھی اپنے بچوں کی اسی نہج پر تربیت کریں۔پھر یہ ہے کہ بعض بچوں کو بچپن میں عادت ہوتی ہے اور یہ ایسی چھوٹی سی بات ہے کہ بعض دفعہ والدین اس پر نظر ہی نہیں رکھتے کہ کھانا کھانے کے بعد گندے ہاتھوں کے ساتھ بچے مختلف چیزوں پر ہاتھ لگا دیتے ہیں اسے بھی ہلکے سے پیار سے سمجھا ئیں۔تو یہ ایسی عادتیں ہیں جو بچپن میں ختم کی جاسکتی ہیں اور بڑے ہو کر یہ اعلیٰ اخلاق میں شمار ہو جاتی ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بچوں میں اخلاق حسنہ کی آبیاری کی اہمیت کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ : ہر وقف زندگی بچہ جو وقف نو میں شامل ہے بچپن سے ہی اس کو سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت ہونی چاہئے۔اور یہ نفرت اس کو گویا ماں کے دودھ سے ملنی چاہئے۔جس طرح ریڈی ایشن کسی چیز کے اندر سرایت کرتی ہے، اس طرح پرورش کرنے والی باپ کی بانہوں میں سچائی اس بچے کے دل میں ڈوبنی چاہئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو پہلے سے بہت بڑھ کر سچا ہونا پڑے گا۔واقفین نو بچوں کے والدین کو یہ نوٹ کرنے والی بات ہے کہ والدین کو پہلے سے بڑھ کر سچا ہونا پڑے گا۔ضروری نہیں کہ سب واقفین زندگی کے والدین سچائی کے اس اعلیٰ معیار پر قائم ہوں جو اعلیٰ درجہ کے مومنوں کے لئے ضروری ہے۔اس لئے اب ان بچوں کی خاطر ان کو اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ کرنی ہوگی۔اور پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط کے ساتھ گھر میں گفتگو کا انداز اپنانا ہوگا اور احتیاط کرنی ہوگی کہ لغو باتوں کے طور پر ، مذاق کے طور پر بھی وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔کیونکہ یہ خدا کی مقدس امانت اب آپ کے گھر میں پل رہی ہے اور اس مقدس امانت کے کچھ تقاضے ہیں جن کو بہر حال آپ نے پورا کرنا ہے۔اس لئے ایسے گھروں کے ماحول،سچائی کے لحاظ سے نہایت