خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 96

$2003 96 خطبات مسرور کے ساتھ ساتھ دُعا ئیں بھی کرتے چلے جاتے ہیں۔لوگ تھوڑ اسا کام کرتے ہیں تو فخر کرنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھو کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔پھر وہ بڑا ہوتا ہے تو اُسے ایک ایسے جنگل میں چھوڑ آتے ہیں جہاں نہ کھانے کا کوئی سامان تھا نہ پینے کا۔اور پھر خانہ کعبہ کی عمارت بنا کر اُن کی دائمی موت کو قبول کر لیتے ہیں۔دائی موت کے الفاظ میں نے اس لئے استعمال کئے ہیں کہ ممکن تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واپس آجانے کے بعد وہ وہاں سے نکل کر کسی اور جگہ چلے جاتے۔مگر بیت اللہ کی تعمیر کے ساتھ وہ خانہ کعبہ کے ساتھ باندھ دیئے گئے گویا خانہ کعبہ کی ہر اینٹ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو بزبان حال کہ رہی تھی کہ تم نے اب اسی جنگل میں اپنی تمام عمر گزارنا ہے۔یہ کتنی بڑی قربانی تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کی۔مگر اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے اور کہتے ہیں کہ ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اے اللہ ! ہم ایک حقیر ہدیہ تیرے حضور لائے ہیں، تو اپنے فضل سے چشم پوشی فرما کر اسے قبول فرمالے۔اور پھر کتنے تکلف - قبول کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ނ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں : تَقَبَّل باب تفعل سے ہے اور تفعل میں تکلف کے معنے پائے جاتے ہیں۔پس وہ کہتے ہیں کہ تو خود ہی رحم کر کے اس قربانی کو قبول فرمالے۔حالانکہ یہ اتنی بڑی قربانی تھی کہ اس کی دنیا میں نظیر نہیں ملتی۔باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو قربان کر رہا تھا اور خانہ کعبہ کی ہرا ینٹ اُن کو بے آب و گیاہ جنگل کے ساتھ مقید کر رہی تھی۔خود حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس کی ایک ایک اینٹ کے ساتھ اُن کے جذبات و احساسات کو دفن کر رہے تھے۔مگر دُعا یہ کرتے ہیں کہ الہی یہ چیز تیرے حضور پیش کرنے کے قابل تو نہیں مگر تو ہی اسے قبول فرمالے۔یہ کتنا بڑا تذلیل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اختیار فرمایا۔اور در حقیقت قلب کی یہی کیفیت ہے جو انسان کو اونچا کرتی ہے۔ورنہ اینٹیں تو ہر شخص لگا سکتا ہے۔مگر ابراہیمی دل ہو تب وہ نعمت میسر آتی ہے جو خدا تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی۔پس انسان کو چاہیے کہ وہ ﴿ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ کہے۔لیکن افسوس ہے کہ لوگ ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا کہنے کی بجائے یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہماری