خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 57
خطبات مسرور جلد 13 57 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء پر ( جنڈیالہ کے ) ایک غیر احمدی کا عیسائی سے مقابلہ ہوتا ہے کیونکہ وہ مقابلہ غیر احمدیوں کا تھا اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعوت دی تھی کہ آپ ہماری طرف سے یہ مباحثہ کریں، مقابلہ کریں۔کہتے ہیں کہ ایک غیر احمدی کا عیسائی سے مقابلہ ہوتا ہے ) اس نے حضرت صاحب سے درخواست کی تھی کہ آپ مقابلہ کریں۔اس پر آپ جھٹ کھڑے ہو گئے۔آپ نے اس وقت یہ نہ کہا کہ عیسائی ہمارے ایسے دشمن نہیں ہیں جیسے غیر احمدی ہیں ( کیونکہ عیسائیوں نے تو قتل کا فتویٰ نہیں دیا ہوا تھا لیکن ان غیر احمدیوں نے ، مولویوں نے قتل کا فتویٰ دیا ہوا تھا۔لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے کے لئے ، اسلام کی عزت قائم کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت قائم کرنے کے لئے مطالبہ ہوتا ہے، خواہ وہ غیر احمدیوں کی طرف سے ہی ہو تو پھر ) ” آپ مباحثے کے لئے چلے گئے اور قادیان سے باہر چلے گئے۔“ الفضل 22 مارچ 1923 ، صفحہ 5 جلد 10 نمبر 73) یہ آپ کی غیرت ایمانی تھی جس کے لئے آپ نے کچھ بھی پرواہ نہ کی۔آتھم کی پیشگوئی بہر حال یہ ایک لمبا مباحثہ تھا اور 15 دن کے لئے چلا۔اس کے آخر میں آپ نے دعا کی اور ایک معیار مقرر کیا اور پیشگوئی فرمائی۔اس پیشگوئی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی۔“ جنگ مقدس روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 291-292) بچے خدا کو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ماننے والے تھے۔عیسائیوں نے تو یسوع کو خدا بنایا ہوا تھا اور اس پر بحث کر رہے تھے۔بہر حال یہ ایک لمبی بحث ہے جیسا کہ میں نے کہا اس کا انجام بھی دنیا نے دیکھا۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دو واقعات بیان کئے