خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 23

خطبات مسرور جلد 13 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء مطابق یہ بہت بڑی رقم تھی۔اس پر محصل راجی فھو دصاحب پہلے تو جذباتی ہو گئے۔پھر انہوں نے ان کو کہا کہ آپ بیشک تھوڑی رقم دیں۔اتنی بڑی رقم نہ دیں۔بچوں کے لئے بھی رکھیں کیونکہ یہ آپ کی حیثیت سے زیادہ ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جب خدا نے مجھے یہ رقم دی ہے تو میں اس کی راہ میں کیوں نہ دوں۔یہ میری رقم نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔میرے پاس تو جلسہ جانے کے لئے کوئی رقم نہیں تھی۔بڑی مشکل سے ایک طرف کا کرایہ خرچ کر کے گیا تھا۔واپسی پر اللہ تعالیٰ نے اس قدر نوازا ہے کہ میں یہ رقم خوشی سے اس کی راہ میں دینے کو تیار ہوں۔اور نیز کہنے لگے کہ دو دن کے بعد دوبارہ آئیں۔میں پھر رقم دوں گا اور دو دن کے بعد انہوں نے دو ہزار سیفا مزید ادائیگی کی۔پھر تنزانیہ کے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ وہاں کے ایک ریجن کے احمد منیو پے صاحب نو مبائع ہیں۔دو سال پہلے احمدی ہوئے ہیں۔انہوں نے بار بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ جو بھی ہم وقف جدید اور تحریک جدید میں دیتے ہیں ہمیں خدا تعالیٰ زیادہ کر کے واپس کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے سے پہلے ہمیں پتا نہیں لگتا تھا کہ پیسہ کہاں جاتا تھا لیکن جب سے جماعت میں شامل ہوئے ہیں اور چندہ دینا شروع کیا ہے تو ایک دلی تسکین ملتی ہے اور ہمارے معاشی حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔پھر برونڈی کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں وہاں ایک ابوبکر صاحب ہیں۔بہت غریب نواحمدی ہیں۔معمولی تنخواہ پر اپنا گزارہ کرتے ہیں۔اپنے والدین کی بھی مدد کرتے ہیں تو کہتے ہیں جب میں ان کے پاس چندہ وقف ر کے لئے گیا تو فوراً کچھ ادا کیا اور کہا کہ ان کے والد صاحب کے پاؤں میں زخم ہونے کی وجہ سے وہ بہت زیادہ بیمار ہیں۔تین ماہ سے ہسپتال میں بھی کافی علاج کروا چکے ہیں۔دیسی علاج بھی کروا چکے ہیں۔اب ڈاکٹران کا پاؤں کاٹنے کا سوچ رہے ہیں اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔مبلغ لکھتے ہیں کہ دو ہفتے بعد ابوبکر صاحب جمعہ پر آئے اور سب سے پہلے تو اپنا بقایا چندہ وقف جدید ادا کیا اور بڑے درد بھرے الفاظ میں شکریہ ادا کرنا شروع کیا اور بتایا کہ جب چندہ وقف جدید کی معمولی رقم ادا کی تھی ( کچھ رقم انہوں نے پہلے دے دی تھی ) تو اس کا یہ فضل ہوا کہ جہاں میں کام کرتا تھا میرے مالک نے میری تنخواہ میں اضافہ کر دیا اور اس سے بڑھ کر یہ فضل ہوا کہ میرے والد صاحب بھی ٹھیک ہونا شروع ہو گئے۔پہلے وہ سوٹی کے سہارے، چھڑی کے سہارے چلتے تھے، اب بغیر سہارے کے چلنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ سب چندہ دینے کی برکت ہے۔اور پھر انہوں نے کہا کہ مجھے آمد کے جدید - مطابق چندہ عام کا حساب بھی بتائیں تا کہ میں با قاعدگی سے چندہ دینا شروع کروں۔پھر تنزانیہ کے ایک لنڈی ریجن کے سلیمانی صاحب لکھتے ہیں کہ میں دکاندار ہوں۔پچھلے سال