خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 302
خطبات مسرور جلد 13 302 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء ایام مصائب اور زمانہ فتوحات میں کیا تھے؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : انبیاء اور اولیاء کا وجود اس لئے ہوتا ہے کہ تا لوگ جمیع اخلاق میں ان کی پیروی کریں اور جن امور پر خدا نے ان کو استقامت بخشی ہے اس جادہ استقامت پر سب حق کے طالب قدم ماریں ( یعنی اس پر چلنے کی کوشش کریں اور یہ بات نہایت بدیہی ہے (صاف ظاہر ہے ) کہ اخلاق فاضلہ کسی انسان کے اس وقت بہ پایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوں ( ہر اخلاق کا ایک وقت ہوتا ہے جب اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوں تو وہیں پتا لگتا ہے کہ وہ ثابت ہورہے ہیں) اور اسی وقت دلوں پر ان کی تاثیر میں بھی ہوتی ہیں۔مثلاً عفوہ معتبر اور قابل تعریف ہے کہ جو قدرت انتقام کے وقت میں ہو۔( جب کسی میں انتقام لینے کی طاقت ہو اس وقت معاف کرنا یہی قابل تعریف ہے) اور پرہیز گاری وہ قابل اعتبار ہے کہ جو نفس پروری کی قدرت موجود ہوتے ہوئے پھر پر ہیز گاری قائم رہے۔غرض خدائے تعالیٰ کا ارادہ انبیاء اور اولیاء کی نسبت یہ ہوتا ہے کہ ان کے ہر یک قسم کے اخلاق ظاہر ہوں اور یہ پایہ ثبوت پہنچ جا ئیں۔سوخدائے تعالیٰ اسی ارادہ کو پورے کرنے کی غرض سے ان کی نورانی عمر کو دو حصہ پر منقسم کر دیتا ہے۔(دو حصے آتے ہیں) ایک حصہ تنگیوں اور مصیبتوں میں گزرتا ہے اور ہر طرح سے دکھ دیئے جاتے ہیں اور ستائے جاتے ہیں تا وہ اعلیٰ اخلاق ان کے ظاہر ہو جائیں کہ جو بجر بسخت تر مصیبتوں کے ہرگز ظاہر اور ثابت نہیں ہو سکتے۔اگر ان پر وہ سخت تر مصیبتیں نازل نہ ہوں تو یہ کیونکر ثابت ہو کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ مصیبتوں کے پڑنے سے اپنے مولیٰ سے بے وفائی نہیں کرتے بلکہ اور بھی آگے قدم بڑھاتے ہیں اور خداوند کریم کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے سب کو چھوڑ کر انہیں پر نظر عنایت کی اور انہیں کو اس لائق سمجھا کہ اس کے لئے اور اس کی راہ میں ستائے جائیں۔سوخدائے تعالیٰ ان پر مصیبتیں نازل کرتا ہے تا ان کا صبر، ان کا صدق قدم، ان کی مردی، ان کی استقامت، ان کی وفاداری، ان کی فتوت شعاری ( یعنی جوانمردی ) لوگوں پر ظاہر کر کے اَلْإِسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكِرَامَةِ کا مصداق ان کو ٹھہر اوے۔کیونکہ کامل صبر بجز کامل مصیبتوں کے ظاہر نہیں ہوسکتا اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور ثابت قدمی بجز اعلیٰ درجہ کے زلزلے کے معلوم نہیں ہوسکتی اور یہ مصائب حقیقت میں انبیاء اور اولیاء کے لئے روحانی نعمتیں ہیں جن سے دنیا میں ان کے اخلاق فاضلہ جن میں وہ بے مثل اور مانند ہیں ظاہر ہوتے ہیں اور آخرت میں ان کے درجات کی ترقی ہوتی ہے۔اگر خدا ان پر یہ صیبتیں نازل نہ کرتا تو یہ نعمتیں بھی ان کو حاصل نہ ہو تیں اور نہ عوام پر ان کے شمائل حسنہ کماحقہ کھلتے بلکہ پریہ دوسرے لوگوں کی طرح اور ان کے مساوی ٹھہرتے (پھر تو سارے ایک جیسے ہو جاتے ) اور گوا اپنی چند روزہ