خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 3
خطبات مسرور جلد 13 3 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے اور ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگہ میں بت ہے۔“ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349) پس آج ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ سال میں ہم نے جن تدبیروں اور حیلوں پر انحصار کیا، انہی کو سب کچھ سمجھایا یہ چیزیں صرف ہم نے تدبیر کے طور پر استعمال کیں اور خدا تعالیٰ کے حضور جھک کران تدبیروں سے اللہ تعالیٰ کی خیر اور برکت چاہی۔اپنے آپ کا انصاف کی نظر سے جائزہ خود ہمیں اپنے عہد کی حقیقت بتا دے گا۔جھوٹ نہیں بولوں گا پھر آپ علیہ السلام نے ہم سے یہ عہد لیا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 563) کون عقلمند انسان ہے جو کہے کہ جھوٹ اچھی چیز ہے یا جھوٹ بولنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان جب تک کوئی غرض نفسانی اس کی محرک نہ ہو جھوٹ بولنا نہیں چاہتا۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 360) پس نفسانی غرض ہو، کوئی مفاد ہو بھی انسان جھوٹ کی طرف مائل ہوتا ہے۔لیکن اعلیٰ اخلاق یہ ہیں کہ جان مال یا آبروکو خطرہ ہو پھر بھی جھوٹ نہ بولے اور سچ کا دامن کبھی نہ چھوڑے۔جھوٹے اور بچے کا تو پتا ہی اس وقت چلتا ہے جب کوئی ابتلا در پیش ہو۔ذاتی مفاد متاثر ہونے کا خطرہ ہو لیکن پھر بھی اس میں سے سرخرو ہوکر نکلے۔اپنے ذاتی مفادات کو سچائی پر قربان کر دے۔آجکل یہاں اور یورپین ممالک میں بھی اسائلم کے لئے لوگ آتے ہیں لیکن باوجود میرے بار بار سمجھانے کے ان وکیلوں کے کہنے پر جھوٹ بول دیتے ہیں۔جھوٹ پر مبنی کہانی لکھواتے ہیں اور پھر بھی بعضوں کے بلکہ بہت ساروں کے کیس reject ہو جاتے ہیں۔باقی دنیا میں بھی اور یہاں بھی جماعتی طور پر وکیلوں کی ایک مرکزی ٹیم ہے۔وہ اسائلم لینے والوں کی مدد کرتی ہے۔ان کو وکیلوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے یا انہیں بعض ایسی ضروری باتیں بتاتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں جو اُن کے کیس کے لئے مفید ہوں۔کئی مرتبہ ہوا ہے کہ مجھے کمیٹی کے صدر نے کہا کہ فلاں کا کیس اس لئے reject ہوا ہے کہ بے انتہا جھوٹ تھا۔