خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 838
خطبات مسرور جلد 13 60 مضامین حضرت مسیح موعود کے معجزات اور نشانات، سگ گزیدہ کا حیرت جلسہ کوئی دنیاوی میلہ نہیں ذکر الہی میں مصروف رہنا چاہئے 344 انگیز طور پر حضور کی دعا سے بچ جانا نبی 247 حضور کا فرمانا کہ میری صداقت کے خدا تعالیٰ نے لاکھوں نشانات دکھائے ہیں 251 ایک مولوی کا قادیان حضور کے پاس نشان دیکھنے آنا اور آپ کا انبیاء سے استہزاء کرنے والوں سے اعراض کی تعلیم ، معاملہ خدا فرمانا کہ میری کتاب حقیقۃ الوحی دیکھ لو۔۔۔38 لیکھرام کا نشان، خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک اظہار 253 270 پر چھوڑ دینا چاہئے انبیاء کے ساتھ تمسخر کرنے والوں کو خدا عبرتناک نشان بناتا قادیان کی ترقی ایک نشان اور اس کی بابت پیشگوئی 281 تا290 91 مخالفین کا زور لگا نالیکن ان کا نا کام ہونا اور یہ خدا کا نشان 604 ہے۔۔۔نبی اس لئے آتا ہے کہ دنیا کے روحانی انحطاط کی اصلاح کرے۔۔۔۔317 نصیحت / نصائح نبی کی وفات کے بعد روحانی لحاظ سے رات اور جسمانی لحاظ سے درود کی نصیحت اور حکمت ،حضرت مسیح موعود کے ارشادات 43،42 طلوع فجر کا زمانہ تم میں نبوت قائم رہے گی۔۔۔۔318 مربیان اور مبلغین کے لئے ایک ضروری نصیحت کہ اپنی 329 استعدادوں کو استعمال کریں اور دوسروں کی بڑھائیں 74 انبیاء کا وجود ایک بارش ہوتی ہے، اولیاء اور انبیاء سے محبت رکھنے عہدیداران کو سلام کرنے کے متعلق ایک ضروری نصیحت 85 464 حضور انور کی دورہ کینیا کے دوران ایک سائنسدان سے ملاقات سے ایمانی قوت بڑھتی ہے نخوت تکبر اور نخوت کو چھوڑنے کا عہد نشان نشانات اور نصیحت 164 12 خدام الاحمدیہ کو نصیحت کہ ان کی ظاہری شکل اسلامی شعار کے مطابق ہونی چاہئے انبیاء کے ساتھ تمسخر کرنے والوں کو خدا عبرتناک نشان بناتا ہے۔۔۔91 ظاہری صفائی کو ملحوظ رکھنے کی نصیحت 167 167 واقفین زندگی مبلغین اور ہر احمدی کے لئے نصیحت کہ ظاہری رکھ کسوف و خسوف حضرت مسیح موعود کی آمد کا ایک زبردست رکھاؤ کی طرف اتنی توجہ نہ دیں کہ۔۔۔نشان۔۔۔167 181 حضرت مصلح موعود کی ایک جماعتی کارکن کو نصیحت کہ خدا سے کسوف و خسوف کا نشان اور حضرت مسیح موعود کا اس کے متعلق مانگیں بجائے اس کے کہ انجمن پر کسی کی نظر ہو 184۔183 321 عہدیداروں کو نصیحت کہ خدمت دین بھی صرف خلافت سے بعض اعتراضات کا جواب اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی سچائی ثابت کرنے کے لئے غیروں کو وابستگی میں ہے بھی نشان دکھاتا ہے 245 338 حضرت مصلح موعودؓ کی مربیان اور علماء کو ایک بڑی اہم