خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 229

خطبات مسرور جلد 13 229 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اپریل 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 10 را پریل 2015 ء بمطابق 10 شہادت 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی : قد أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُوْنَ ایک حقیقی مومن کی نماز اور عبادت (المؤمنون:2-3) یقیناً مومن کا میاب ہو گئے۔وہ جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ان آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ کہہ کر مومنوں کی کامیابی کی یقینی خوشخبری عطا فرمائی ہے۔لیکن کو نسے مومن؟ ان کی بہت سی شرائط اگلی آیتوں میں بیان فرمائی ہیں کہ ان شرائط کے ساتھ زندگی گزارنے والے مومن ہی فلاح پانے والے ہیں اور ان شرائط میں سے یا اُن اوصاف میں سے جن سے ایک مومن کو متصف ہونا چاہئے ، پہلی خصوصیت یا حالت یہ ہے کہ وہ في صَلَاتِهِمْ خُشِعُونَ۔اپنی نمازوں میں خشوع دکھانے والے ہیں۔دو خاشع کے عام معنی یہی کئے جاتے ہیں کہ نماز میں گریہ وزاری کرنے والے۔لیکن اس کے اور بھی معنی ہیں اور جب تک سب معنی پورے نہ ہوں ایک مومن کی حقیقی معیار کی حالت پیدا نہیں ہوتی۔اور لغات کے مطابق خشوع کے یہ معنی ہیں کہ انتہائی عاجزی اختیار کرنا۔اپنے آپ کو بہت نیچے کرنا۔اپنے نفس کو مٹا دینا۔تذلل اختیار کرنا۔اپنے آپ کو کمتر بنانے کے لئے کوشش کرنا۔نظریں نیچی رکھنا۔آواز کو دھیما اور نیچا رکھنا۔پس دیکھیں اس ایک لفظ میں ایک حقیقی مومن کی نماز اور عبادت کا کیسا وسیع نقشہ کھینچا گیا ہے اور