خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 165
خطبات مسرور جلد 13 165 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مارچ2015ء پھر فرمایا دوست پر بھروسہ ہو۔ممکن ہے وہ دوست مصیبت سے پیشتر دنیا سے اٹھ جاوے یا اور مشکلات میں پھنس کر اس قابل نہ رہے ( کہ کام آئے۔پھر ) حاکم پر بھروسہ ہو توممکن ہے کہ حاکم کی تبدیلی ہو جاوے اور وہ فائدہ اس سے نہ پہنچ سکے اور ان احباب اور رشتہ داروں کو جن سے امید اور کامل بھروسہ ہو کہ وہ رنج اور تکلیف میں امداد دیں گے اللہ تعالیٰ اس ضرورت کے وقت ان کو اس قدر ڈور ڈال دے کہ وہ کام نہ آسکیں۔“ فرمایا کہ " پس ہر آن خدا ( تعالی ) سے تعلق نہ چھوڑنا چاہئے جو زندگی ، موت کسی حالت میں ہم سے جدا نہیں ہوسکتا۔( زندگی اور موت میں خدا تعالیٰ کا ہی ساتھ ہے۔) فرمایا کہ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کر لیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم دکھوں سے محفوظ نہ رہ سکو گے اور سکھ نہ پاؤ گے بلکہ ہر طرف سے ذلت کی مار ہوگی اور ممکن ہے کہ وہ ذلّت تم کو دوستوں ہی کی طرف سے آ جاوے۔ایسے لوگ جو خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرتے ہیں وہ کون ہوتے ہیں؟ وہ فاسق، فاجر ہوتے ہیں! ان میں سچا اخلاص اور ایمان نہیں ہوتا ! یہی نہیں کہ وہ ایمان کے کچے ہیں۔نہیں۔ان میں شفقت علی خلق اللہ بھی نہیں ہوتی ! “ ( حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 68) اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے شفقت بھی نہیں کرتے۔یعنی نہ خدا کے حقوق ادا کرتے ہیں نہ بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ہر عمل کو خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اپنے عارضی فائدوں کی بجائے اپنے کل پر نظر رکھیں اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 27 مارچ 2015 ء تا 02 اپریل 2015 ، جلد 22 شماره 13 صفحه 05 تا08)