خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 71

خطبات مسرور جلد 13 71 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء ماتحتوں کو تنگ کرنے کے لئے بعض حکم دیتے ہیں اور نہ عمل کرنے کی وجہ سے ان کو ذلیل ورسوا کرتے رہتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رحمت تو اپنے بندوں پر بیشمار ہے۔انسان عمل کرے جن باتوں کے عمل کرنے کا حکم دیا ہے تو کئی گنا اجر دیتا ہے اور ہر ایک کی صلاحیت کے مطابق اس سے عمل کی توقع رکھتا ہے اور بیشمار اجر دیتا ہے۔پس کیا ایسا خدا جو اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہو اس کی باتوں پر عمل کرنے کی انسان کو اپنی استعدادوں کے مطابق کوشش نہیں کرنی چاہئے؟ یقیناً ایک حقیقی مومن اس کے لئے کوشش کرے گا اور کرنی چاہئے۔پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” شریعت کا مدار نرمی پر ہے۔سختی پر نہیں۔( ملفوظات جلد 3 صفحه 404) یعنی ہر ایک سے اس کی استعدادوں کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔شریعت نرمی اور آسانی دیتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے استعدادوں کے مطابق عمل کا کہہ کر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی کی حد مقرر کر دی۔یہ حد بندی کر دی۔ہر ایک کی اپنی ذہنی اور علمی حالت کے مطابق انسانی عقلوں کی بھی حد بندی کر دی۔کاموں کی بھی حد بندی کر دی سوائے اس کے کہ انسان ذہنی بیمار ہو یا پاگل ہو۔چھوٹی سے چھوٹی عقل رکھنے والے کے لئے بھی اس کے مطابق عمل کا کہا ہے جو اس کی صلاحیتیں ہیں، جو اس کی استعداد میں ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ہر انسان ایمان حاصل کرے۔اس لئے اس نے چھوٹی سے چھوٹی عقل کا بھی معیار قائم کیا کہ جو جس کی صلاحیت ہے اس کے مطابق اس کو ایمان تو بہر حال حاصل کرنا چاہئے۔اگر وہ چھوٹی سے چھوٹی عقل کا بھی معیار مقرر نہ کرتا پھر سب لوگ ایمان لانے کے مکلف نہ ہوتے۔ان پر لازمی نہ ہوتا کہ ضرور ایمان لائیں۔صرف وہی اس کے مکلف ہوتے جو عقل کے اونچے معیار کے ہیں جن کی صلاحیتیں اور استعدادیں بہت زیادہ ہیں۔اگر کسی شخص کو کوئی بات سمجھ نہ آئے تو پھر اس پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد نہیں ہوتا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ادنی عقل سے لے کر اعلیٰ عقل تک مختلف درجوں کے لحاظ سے معیار رکھے ہیں۔کوئی بڑا عقلمند ہے۔کوئی کم عقلمند ہے۔کسی میں زیادہ صلاحیتیں استعداد میں ہیں۔کسی میں کم ہیں۔دنیا داری کے معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں۔اسی دماغی رجحان اور حالت کے مطابق کوئی اعلیٰ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ صلاحیت رکھتے ہوئے بہت آگے نکل جاتا ہے۔کوئی درمیان میں رہتا ہے۔کوئی بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔پھر پیشوں کے لحاظ سے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی کسی پیشے میں آگے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے کوئی کسی پیشے میں۔تعلیم کے لحاظ سے کسی کا رجحان کسی مضمون کی طرف ہوتا ہے، کسی کا کسی طرف۔تو یہ ایک فطری چیز ہے کہ رجحان مختلف کاموں کے کرنے اور