خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 762 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 762

خطبات مسرور جلد 13 762 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء نتیجہ تم یہ دیکھ رہے ہو کہ اسی میدان میں قادیان میں تم بیٹھے ہوئے ہو۔آج جیسا کہ میں نے بتایا کہ قادیان کی جلسہ گاہ اور بھی وسیع ہو چکی ہے۔میں جلسہ میں شامل ہونے والے مرد عورتیں جتنے بھی لوگ ہیں، ان سے کہتا ہوں کہ ایک وسیع میدان جس میں تمام سہولتیں بھی میسر ہیں جہاں ایک زبان کی بجائے ( اس زمانے میں تو ایک زبان میں حضرت مصلح موعود تقریر فرما رہے تھے اب وہاں ایک کے بجائے) کئی زبانوں میں آوازیں پہنچائی جا رہی ہیں۔اس وقت خطبہ بھی وہاں بیٹھ کرسن رہے ہیں۔سات آٹھ زبانوں میں ان کو خطبہ کا ترجمہ بھی پہنچ رہا ہے۔جہاں اس وقت مختلف قوموں کے لوگ بیٹھے ہیں، جہاں پاکستان سے آئے ہوئے اپنے حقوق سے محروم لوگ بھی بیٹھے ہیں۔یہ سب لوگ اپنے آپ میں وہ ایمان اور اخلاص پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں، ایک جذبہ پیدا کریں جو اُن دو سو لوگوں میں تھا جس کی مثال حضرت مصلح موعودؓ نے دی ہے۔اسی طرح آسٹریلیا میں جیسا کہ میں نے کہا جلسہ ہو رہا ہے۔امریکہ کے ویسٹ کوسٹ کا جلسہ ہورہا ہے۔ہر جگہ اگر اس نیت سے آپ جمع ہوئے ہیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی پیغام کو دنیا تک پہنچانا ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنا ہے تو جس طرح وہ دو اڑھائی سولوگ اڑھائی سو گٹھلیاں یا بیج بن گئے تھے جن سے پھل دار درخت پیدا ہوئے اور قادیان کی وسعت اور میدان اور ان بزرگوں کی نسلیں اور امریکہ میں جماعت اور اس کی وسعت اور آسٹریلیا میں جماعت اور اس کی وسعت کے نظارے ہم دیکھ رہے ہیں۔آسٹریلیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ماشاء اللہ نئی نئی جگہیں خریدی جا رہی ہیں۔ان کی خوبصورتی اگر بڑھانی ہے تو پھر اپنی ایمانی کیفیت میں اضافے سے بڑھائیں ورنہ صرف جلسہ کے لئے جمع ہونا کافی نہیں ہے۔اگر ان دو اڑھائی سو بیجوں یا گٹھلیوں نے اپنے اثر دکھائے تو آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے ایمان میں بڑھیں اور پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ہمارا غلبہ ہے انشاء اللہ۔اُس وقت تو ایک ارب کچھ کروڑ کی بات تھی آج دنیا کی آبادی سات ارب سے زیادہ ہے۔سات ارب تیس کروڑ کہا جاتا ہے۔اور ہماری تعداد ابھی بھی دنیا کی آبادی کے مقابلے میں اور اپنے وسائل کے لحاظ سے بہت معمولی ہے۔لیکن ہم نے کام وہی کرنے ہیں جو ہمارے آبا ؤ اجداد نے کئے۔پس اس بات کو ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ہمارا مقصد بہت بڑا ہے اسے ہم نے حاصل کرنا ہے اور یہ تمام لوگ جو