خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 761 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 761

خطبات مسرور جلد 13 761 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء ایسی حالت میں اگر بڑھیا کو یہ خیال آیا ہو کہ شاید روئی کے دو گالوں کے ذریعہ سے میں یوسف کو خرید سکوں تو یہ کوئی بعید بات نہیں۔خصوصاً جب ہم اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جس ملک سے یہ قافلہ آیا تھا وہاں روئی نہیں ہوا کرتی تھی اور وہ مصر سے ہی روٹی لے جایا کرتے تھے تو پھر تو یہ کوئی بھی بعید بات معلوم نہیں ہوتی کہ روٹی کی قیمت اس وقت بہت بڑھی ہوئی ہو اور وہ بڑھیا واقعہ میں یہ مجھتی ہو کہ روئی سے یوسف کو خریدا جا سکتا ہے۔لیکن جس قیمت کو لے کر وہ لوگ جمع ہوئے تھے وہ یقیناً ایسی ہی قلیل تھی ( یعنی کہ اس وقت یہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد دو اڑھائی سو آدمی بیٹھے تھے۔جس قیمت کو لے کر یہ لوگ جمع ہوئے تھے وہ یقیناً ایسی ہی قلیل تھی) اور یہ یوسف کی خریداری کے واقعہ سے زیادہ نمایاں اور زیادہ واضح مثال اس عشق کی ہے۔وہ اصل چیز کیا ہے؟ یہ عشق ہے۔) جو انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔(وہ بڑھیا تو یہ سمجھی تھی کہ اس کی یہی ” میری قیمت کافی ہے۔لیکن یہاں ایک اور قیمت لگ رہی ہے جو عشق کی قیمت ہے جو عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے اور پھر یہ عشق ) انسان سے ایسی ایسی قربانیاں کراتا ہے جن کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔وہ دو یا اڑھائی سو آدمی جو جمع ہوا ان کے دل سے نکلے ہوئے خون نے خدا تعالیٰ کے عرش کے سامنے فریاد کی۔بیشک ان میں سے بہتوں کے ماں باپ زندہ ہوں گے، بیشک وہ خود اس وقت ماں باپ یا دادے ہوں گے مگر جب دنیا نے ان پر جنسی کی ، جب دنیا نے انہیں چھوڑ دیا، جب اپنوں اور پرایوں نے انہیں الگ کر دیا اور کہا کہ جاؤاے مجنونو ! ہم سے دُور ہو جاؤ۔( جب انہوں نے احمدیت قبول کی تو ان کے باوجود بڑے ہونے کے، باپ ہونے کے، دادا ہونے کے، بچے ہونے کے لوگوں نے ان کو گھروں سے نکال دیا کہ ہم سے دُور ہو جاؤ ) تو وہ با وجود بڑے ہونے کے یتیم ہو گئے۔کیونکہ یتیم ہم اسے ہی کہتے ہیں جو لا وارث ہو اور جس کا کوئی سہارا نہ ہو۔پس جب دنیا نے انہیں الگ کر دیا تو وہ یتیم ہو گئے اور خدا کے اس وعدے کے مطابق کہ یتیم کی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے جب وہ قادیان میں جمع ہوئے اور سب یتیموں نے مل کر آہ وزاری کی تو اس آہ کے نتیجہ میں وہ پیدا ہوا جو آج تم اس میدان میں دیکھ رہے ہو۔(ماخوذ از جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانہ رب العزت پر گریہ و بکا کرنے کا نتیجہ ہے۔انوارالعلوم جلد 14 صفحہ 322-323) یعنی اس وقت جو لوگ جلسے میں جمع تھے اور وسیع میدان تھا۔قادیان تھا۔پس اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے چند ہزار لوگوں کو کہا تھا کہ ان دو اڑھائی سو لوگوں کی آہوں کا نتیجہ تم دیکھ رہے ہو۔یعنی کہ اس میدان میں ان دو اڑھائی سولوگوں کی آہیں تھیں جس کا