خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 755
خطبات مسرور جلد 13 755 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی اور عشق کی وجہ سے کلام کیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ سے کیوں کلام کیا اور مخفی اور پوشیدہ طاقت عطا فرما کر اپنے قرب سے نوازا۔طاقت کے ذریعہ سے اپنے قرب سے نوازا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا جماعت احمد یہ نہیں بلکہ یہ نام نہاد علما ء اس الزام کے نیچے آتے ہیں کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض جاری نہیں ہے۔اور نعوذ باللہ للہ تعالیٰ کی طاقتیں اور صفات محدود ہوگئی ہیں۔پس اگر الزام لگتا ہے تو ان لوگوں پر لگتا ہے۔حضرت مسیح موعود تو فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طاقتیں اب بھی کام کر رہی ہیں۔پھر چشمہ معرفت میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ اور آپ کے جاری فیض کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : پھر جب ہمارے بزرگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں ظاہر ہوئے تو ایک انقلاب عظیم دنیا میں آیا اور تھوڑے ہی دنوں میں وہ جزیرہ عرب جو بجز بت پرستی کے اور کچھ بھی نہیں جانتا تھا ایک سمندر کی طرح خدا کی توحید سے بھر گیا۔علاوہ اس کے یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے سید ومولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قدر خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان اور معجزات ملے وہ صرف اس زمانہ تک محدود نہ تھے بلکہ قیامت تک ان کا سلسلہ جاری ہے۔اور پہلے زمانوں میں جو کوئی نبی ہوتا تھاوہ کسی گذشتہ نبی کی امت نہیں کہلاتا تھا گو اس کے دین کی نصرت کرتا تھا اور اس کو سچا جانتا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو اُن کی امت سے باہر ہو بلکہ ہر ایک کو جو شرف مکالمہ الہیہ ملتا ہے وہ انہیں کے فیض اور انہیں کی وساطت سے ملتا ہے اور وہ امتی کہلاتا ہے ، نہ کوئی مستقل نبی۔“ ( پس اس لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے لئے امتی نبی ہونے کا اعلان فرمایا۔پھر فرماتے ہیں کہ ) اور رجوع خلائق اور قبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج کم سے کم بیس کروڑ ہر طبقہ کے مسلمان آپ کی غلامی میں کمر بستہ کھڑے ہیں ( یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے کی تعداد بتارہے ہیں جو آپ کے زمانے میں تھی اور جب سے خدا نے آپ کو پیدا کیا ہے بڑے بڑے زبر دست بادشاہ جو ایک دنیا کو فتح کرنے والے تھے آپ کے قدموں پر ادنی غلاموں کی طرح گرے رہے ہیں اور اس وقت کے اسلامی بادشاہ بھی ذلیل چاکروں کی طرح آنجناب کی خدمت میں اپنے تئیں سمجھتے ہیں اور نام لینے سے تخت سے نیچے اتر آتے ہیں۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 381-380)