خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 59
خطبات مسرور جلد 13 59 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء کہ مومن کا کام اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا ہوتا ہے۔کام تو خدا تعالیٰ کرتا ہے لیکن ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم وہی کچھ کریں، ہم وہی کچھ سوچیں اور ہم وہی کچھ کہیں جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے۔( ہم وہ کریں، وہ سوچیں اور وہ کہیں جو خدا تعالیٰ کہتا ہے۔) حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی اور پیشنگوئی کی میعاد گزرگئی۔میں اس وقت چھ سات سال کی عمر کا تھا۔مجھے وہ نظارہ ย خوب یاد ہے جس جگہ قادیان میں بک ڈپو ہوا کرتا تھا اور اس کے ساتھ والے کمرے میں موٹر کھڑی ہوتی تھی۔اس کے مغرب والے کمرے میں خلیفہ مسیح الاوّل پہلے درس دیا کرتے تھے یا مطلب کیا کرتے تھے۔آخری ایام میں مولوی قطب الدین صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں مطب کرتے رہے ہیں۔اس کے ساتھ پھر ایک کوٹھڑی تھی ( جگہ بھی بتا رہے ہیں ) اس میں کتا میں رکھی ہوئی تھیں۔اس وقت وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک پریس ہوتا تھا اور اس کمرے میں جہاں حضرت خلیفتہ اسیح الاول مطب فرمایا کرتے تھے فرمہ بندی ہوتی تھی اور پھر وہاں سے کوٹھڑی میں کتابیں رکھ دی جاتی تھیں۔بہر حال حضرت خلیفہ اسی الاول کے بعض شاگر د بھی وہاں رہا کرتے تھے۔ان دنوں میں بہت کم لوگ ہوا کرتے تھے۔اس لئے عام طور پر جولوگ وہاں آتے تھے حضرت خلیفہ اسیح الاول کے شاگرد بن جاتے تھے۔یہی مدرسہ تھا اور حضرت خلیفہ اول ہی پڑھایا کرتے تھے۔اس کے علاوہ اور کوئی مدرسہ نہیں تھا۔وہ لوگ آپ کے شاگرد بھی ہوتے تھے اور سلسلے کےخادم بھی ہوتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ میں چھوٹا سا تھا کہ جب آٹھم کی پیشگوئی کا وقت پورا ہوا۔غالباً یہ چورانوے کے آخر یا پچانوے کے شروع کی بات ہے۔میں اس وقت ساڑھے پانچ یا چھ سال کا تھا ابھی تک وہ نظارہ مجھے یاد ہے۔اس وقت تو میں اسے نہیں سمجھتا تھا کیونکہ میری عمر بہت چھوٹی تھی لیکن اب واقعات سے میں سمجھتا ہوں کہ جس دن آتھم کی پیشگوئی پوری ہونے کا آخری دن تھا یعنی پندرہ مہینے ختم ہونے تھے اس دن اتنا قہر مچا ہوا تھا کہ لوگ رورو کر چیخیں مار رہے تھے اور دعا کرتے تھے کہ خدایا آتھم مر جائے۔یہ عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے کی بات ہے۔پھر نماز کا وقت ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز پڑھائی اور نماز کے بعد آپ مجلس میں بیٹھ گئے۔گو اس عمر میں میں با قاعدہ مجلس میں حاضر نہیں ہوتا تھا لیکن کبھی کبھی مجلس میں بیٹھ جاتا تھا۔اس دن میں بھی مجلس میں بیٹھ گیا۔اس دن جو لوگ رو رو کر دعائیں کر رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے اس فعل پر ناراضگی کا اظہار کیاور فرمایا کیا خدا تعالیٰ سے بھی بڑھ کرکسی انسان کو اس کے کلام کے لئے غیرت ہوسکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے جب یہ بات کہی ہے کہ ایسا ہوگا تو پھر ہمیں ایمان رکھنا چاہئے کہ ایسا ضرور ہوگا اور اگر ہم نے خدا تعالیٰ کی بات کو غلط سمجھا