خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 751 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 751

خطبات مسرور جلد 13 751 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء کا بیڑا غرق کیا۔پھر سب کے بعد سید الانبیاء وخیر الوریٰ مولنا وسید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم الشان روحانی حسن لے کر آئے جس کی تعریف میں یہی آیت کریمہ کافی ہے: دَنی فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنی (النجم : 10 - 9)۔یعنی وہ نبی جناب الہی سے بہت نزدیک چلا گیا اور پھر مخلوق کی طرف جھکا اور اس طرح پر دونوں حقوں کو جو حق اللہ اور حق العباد ہے ادا کر دیا۔اور دونوں قسم کا حسن روحانی ظاہر کیا۔اور دونوں قوسوں میں وتر کی طرح ہو گیا۔یعنی دونوں قوسوں میں جو ایک درمیانی خط کی طرح ہو اور اس طرح اس کا وجود واقع ہوا۔۔اس حسن کو نا پاک طبع اور اندھے لوگوں نے نہ دیکھا وا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا کہ آپ کے حسن کو نا پاک طبع اور اندھے لوگوں نے نہ دیکھا) جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الاعراف: 199 )۔یعنی تیری طرف وہ دیکھتے ہیں مگر تو انہیں دکھائی نہیں دیتا۔آخر وہ سب اندھے ہلاک ہو گئے“۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 221-220) پھر 1907 ء کی آپ کی تصنیف حقیقۃ الوحی ہے۔اس میں آپ نے فرمایا کہ: پس میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور دو سلام اس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے“۔( یہ کہتے ہیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اونچا مقام رکھتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ میں آخر میں آیا اور میں نبی ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے۔ایسے لوگوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے آپ کو باہر سمجھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں وہ ذریت شیطان ہے۔) ” کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی