خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 750 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 750

خطبات مسرور جلد 13 750 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء اور بت پرستی کو چھوڑ کر تو حید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے۔اور در حقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو ( جانوروں کی طرح جیسی قو م تھی ان کو ) انسانی عادات سکھلائے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا ( جانوروں کو انسان بنایا) اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے با خدا انسان بنایا اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی اور بچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔وہ خدا کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے اور چیونٹیوں کی طرح پیروں میں کچلے گئے مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ دیا بلکہ ہر ایک مصیبت میں آگے قدم بڑھایا۔پس بلا شبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قو تیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بارو بر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تائتر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہو گئے اور چونکہ آپ صفات الہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفات جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی اور آپ کے دو نام محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی غرض سے ہیں اور آپ کی نبوت عامہ میں کوئی حصہ بخل کا نہیں بلکہ وہ ابتدا سے تمام دنیا کے لئے ہے۔لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 207-206) پھر 1905 ء کی اپنی تصنیف 'براہین احمدیہ جلد پنجم میں آپ فرماتے ہیں کہ : ”ہزار ہزار شکر اس خداوند کریم کا ہے جس نے ایسا مذہب ہمیں عطا فرمایا جو خدا دانی اور خدا ترسی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی نظیر کبھی اور کسی زمانہ میں نہیں پائی گئی۔اور ہزار ہا درود اس نبی معصوم پر جس کے وسیلہ سے ہم اس پاک مذہب میں داخل ہوئے۔اور ہزار ہا رحمتیں نبی کریم کے اصحاب پر ہوں جنہوں نے اپنے خونوں سے اس باغ کی آب پاشی کی۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 25) پھر براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ہی آپ فرماتے ہیں: نوح میں وہی حسن تھا جس کی پاس خاطر حضرت عزت جل شانہ کومنظور ہوئی اور تمام منکروں کو پانی کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔(حضرت نوح کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کیا اس وجہ سے کہ وہ نبی تھے۔فرمایا ) پھر اس کے بعد موسیٰ بھی وہی حسن روحانی لے کر آیا جس نے چند روز تکلیفیں اٹھا کر آخر فرعون