خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 746
خطبات مسرور جلد 13 746 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملا کی اور یحي اور ذکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگر چہ سب مقرب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔یہ اُس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں بچے سمجھے گئے۔اَللهُمَ صَلِ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ أَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ وَأَخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ “ اتمام الحجة - روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308) پھر 1895 ء کی اپنی تصنیف آریہ دھرم میں آپ فرماتے ہیں: ”ہمارے مذہبی مخالف ( یعنی اسلام کے مخالف ) صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ کر کے جو ہماری کتب مسلّمہ اور مقبولہ کی رُو سے ہر گز ثابت نہیں ہیں بلکہ منافقوں کے مفتریات ہیں (منافقوں کے جھوٹ ہیں ) ہمارا دل دکھاتے ہیں اور ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں جن کا ہماری معتبر کتابوں میں نام ونشان نہیں۔اس سے زیادہ ہمارے دل دکھانے کا اور کیا موجب ہوگا کہ چند بے بنیا داختر اؤں کو پیش کر کے ہمارے اس سیدو مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر (نعوذ باللہ ) زنا اور بدکاری کا الزام لگانا چاہتے ہیں جس کو ہم اپنی پوری تحقیق کی رو سے سید المعصومین اور ان تمام پاکوں کا سردار سمجھتے ہیں جو عورت کے پیٹ سے نکلے اور اس کو 66 خاتم الانبیاء جانتے ہیں کیونکہ اس پر تمام نبوتیں اور تمام پاکیز گیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے۔“ آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 84) پھر 1897ء کی آپ کی تصنیف ہے سراج منیر۔اس میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر ، تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی“۔(سراج منیر۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 82) پھر 1898ء کی آپ کی تصنیف ہے کتاب البریہ۔اس میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں: ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشان اور معجزات دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو آنجناب کے ہاتھ سے یا آپ کے قول یا آپ کے فعل یا آپ کی دعا سے ظہور میں آئے اور ایسے معجزات شمار کے رو سے