خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 745
خطبات مسرور جلد 13 745 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهِ۔ذَلِكُمْ وَضُكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (الانعام: 154) قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رحِيمٌ (آل عمران : 32) فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ (آل عمران: 21 ) وَأُمِرْتُ أَنْ أَسْلِمَ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (المومن : 67) حضرت مسیح موعود ان آیات کی جو مختلف سورتوں کی ہیں وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔سارا ترجمہ آپ نے نہیں کیا۔کچھ تھوڑا سا ترجمہ فرمایا ہے ” یعنی ان کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری پرستش میں جدو جہد اور میری قربانیاں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے اور اس کی راہ میں ہے۔وہی خدا جو تمام عالموں کا رب ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اول المسلمین ہوں یعنی دنیا کی ابتدا سے اس کے اخیر تک میرے جیسا اور کوئی کامل انسان نہیں جو ایسا اعلیٰ درجہ کا فنافی اللہ ہو۔( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔) آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 162-160) پھر 1894ء میں اپنی تصنیف نور الحق حصہ اول میں آپ فرماتے ہیں۔یہ روحانی خزائن کی جلد 8 ہے۔عربی کی یہ عبارت ہے کہ : طُوبَى لِلَّذِى قَامَ لِإِعْلَائِ كَلِمَةِ الدِّيْنِ وَنَهَضَ يَسْتَقْرِى طُرُقَ مَرْضَاةِ اللَّهِ النَّصِيْرِ الْمُعِيْنِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنِ وَالصَّلَوَةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ سَيِّدِ رسلہ۔مبارک وہ جو دین کی مدد کے لئے کھڑا ہو گیا اور ربانی رضا مندی کی راہوں کو ڈھونڈھتا ہوا اٹھا۔پسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔تمام تعریفیں خدا کے لئے ثابت ہیں جو تمام عالموں کا پروردگار ہے اور درود اور سلام نور الحق الحصة الاولی ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 2) پھر روحانی خزائن کی جلد 8 میں ہی اتمام الحجبہ ہے۔یہ بھی 1894 ء کی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلين، فخر النبيين ، جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا 66 اس کے نبیوں کے سردار پر “