خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 744 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 744

خطبات مسرور جلد 13 744 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء اس کے دو حصے ہیں۔اردو اور عربی حصہ ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الا حیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سو وہ نو ر اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں اور امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قوی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ) اور پھر انسان کامل برطبق آیت ( یعنی اس آیت کے مطابق کہ ) إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أهْلِهَا (النساء: 59) اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے۔“ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ امانتیں اس کے اہل کو ادا کرو اور سب سے زیادہ ذمہ داریاں جو اللہ تعالیٰ خود ہی امانتیں دیتا ہے اور ان امانتوں کی ادائیگی کا سب سے زیادہ حق اللہ تعالیٰ کا ہے کہ اس کے حق ، حقوق اللہ ادا کئے جائیں۔اور یہ امانتیں جو اللہ تعالیٰ کا حق ادا کر کے اس کو ادا کی گئیں، واپس کی گئیں اس میں سب سے بڑا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔فرمایا کہ اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے ) د یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔(اللہ تعالیٰ کو یہ امانتیں واپس دینا کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ میں فانی ہوکر ، اس میں فنا ہو کر اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے کام کے لئے وقف کر دے۔اللہ تعالیٰ کے دین کے پھیلانے کے لئے دین کی اشاعت کے لئے اس کی عبادت کے لئے اور اس کے حکم کے مطابق حقوق اللہ کی ادائیگی کے لئے وقف کر دے۔فرمایا ) ” جیسا کہ ہم مضمون حقیقت اسلام میں بیان کر چکے ہیں اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید، ہمارے مولی ، ہمارے ہادی، نبی اُفی صادق مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی جیسا کہ خود خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : قُل انّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : 163 - 164) وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ