خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 58
خطبات مسرور جلد 13 58 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء ہیں وہ پیش کرتا ہوں۔ایک جگہ یہ ذکر کرتے ہوئے آپ نے خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف کا ذکر کیا ہے کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو انذاری پیشگوئی فرمائی تھی (جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔میں پڑھ چکا ہوں ) جب اس کی میعاد گزرگئی اور آتھم نہ مرا۔( پندرہ ماہ کی میعاد تھی۔) تو ظاہر بین لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ایک دفعہ نواب صاحب بہاولپور کے دربار میں بھی بعض لوگوں نے ہنسی اڑانی شروع کر دی کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور آتھم ابھی تک زندہ ہے۔اس وقت دربار میں خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے بھی بیٹھے ہوئے تھے جن کے نواب صاحب مرید تھے۔باتوں باتوں میں نواب صاحب کے منہ سے بھی یہ فقرہ نکل گیا کہ ہاں مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔اس پر خواجہ غلام فرید صاحب جوش میں آگئے اور انہوں نے بڑے جلال سے فرمایا کہ کون کہتا ہے آتھم زندہ ہے۔مجھے تو اس کی لاش نظر آ رہی ہے۔اس پر نواب صاحب خاموش ہو گئے۔یہ واقعہ بیان کر کے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر زندہ معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً مردہ ہوتے ہیں اور بعض مردہ نظر آتے ہیں لیکن حقیقتا زندہ ہوتے ہیں۔جو لوگ خدا کی راہ میں جان دیتے ہیں وہ درحقیقت زندہ ہوتے ہیں۔اور جو لوگ زندہ ہوتے ہیں ان میں سے ہزاروں روحانی نگاہ رکھنے والوں کو مردہ دکھائی دیتے ہیں۔(جو زندہ لوگ ہیں وہ روحانی نگاہ رکھنے والوں کو مردہ دکھائی دیتے ہیں۔کسی بزرگ کے متعلق یہ لکھا ہے کہ وہ قبرستان میں رہتے تھے۔ایک دفعہ کسی نے ان سے کہا کہ آپ زندوں کو چھوڑ کر قبرستان میں کیوں آگئے ہیں؟ انہوں نے کہا مجھے تو شہر میں سب مردے ہی مردے نظر آتے ہیں اور یہاں مجھے زندہ لوگ دکھائی دیتے ہیں۔پس روحانی مُردوں اور روحانی زندوں کو پہچانا ہر ایک کا کام نہیں ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 292) اس کو پہچاننے کی حقیقی مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔لیکن روحانی نظر ہو تو پھر ہی زندوں کا اور مُردوں کا فرق نظر آتا ہے اور یہ ہم میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عبداللہ آتھم کے بارے میں یہ بھی بتادوں کہ صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی موت بھی اس کو آ گئی تھی اور پیشگوئی کے مطابق ہوئی تھی۔ہاں تھوڑا سا اس میں وقفہ پڑا تھا اور اس کی بھی وجو ہات تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بیان فرمائی ہیں۔پھر اسی آتھم کی پیشگوئی کے بارے میں ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان فرمایا ہے