خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 735
خطبات مسرور جلد 13 735 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء ہیں، ان پر بم گرائے جاتے ہیں اور دوسری طرف ان کو اسلحہ پہنچانے والوں اور غلط ذریعہ سے مال پہنچانے والوں یا مالی ٹرانزیکشن (Transaction) کرنے والوں کی طرف سے ان لوگوں نے باوجود علم ہونے کے کہ کس طرح یہ سب کچھ ہورہا ہے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔پس دنیا کے امن اور سلامتی کو برباد کرنے والے صرف یہ مسلمان گروہ ہی نہیں ہیں جو اسلامی تعلیم کے خلاف چلتے ہوئے ظلم و فساد کر رہے ہیں بلکہ بڑی حکومتیں بھی ہیں جو اپنے مفادات کو اولیت دیتی ہیں اور دنیا کا امن ان کے نزدیک ضمنی اور ثانوی چیز ہے۔ایک حقیقی مسلمان تو یہ جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ سلام ہے وہ اپنی مخلوق کے لئے سلامتی چاہتا ہے اور حقیقی مسلمانوں میں یقیناً احمدی ہی ہیں جو اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو سلامتی دینے اور دنیا میں امن وسلامتی قائم رکھنے کے لئے کتنے احکامات دیئے ہیں، کتنی زیادہ رہنمائی فرمائی ہے۔خدا تعالیٰ ایک جگہ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَقِيْلِهِ يُرَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَ فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَمٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (الزخرف:90-89)۔اور جب اس نے کہا کہ اے میرے رب یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پس تو ان سے درگزر کر اور اتنا کہہ دے کہ سلام۔( تم پر سلامتی ہو ) پس عنقریب وہ جان جائیں گے کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے۔پس یہ ہے قرآن کریم کی تعلیم کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں تو سننے والے انکار کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ! میں تو ان کو امن اور سلامتی کی طرف بلا رہا ہوں اور یہ انکار کر رہے ہیں۔یہ صرف انکار ہی نہیں کر رہے، یہ ایسی قوم ہیں جو نہ صرف ایمان نہیں لاتی سلامتی کے پیغام کو نہیں سمجھتی بلکہ الٹا مجھے امن نہیں دیتی۔ہم مسلمانوں کی سلامتی کو بھی برباد کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاصْفَحُ عَنْهُمْ۔کہ ان سے درگزر کر۔ان کو سمجھ نہیں ہے، یہ عقل نہیں رکھتے۔بیوقوف لوگ ہیں۔غصہ میں آجاتے ہیں۔ان کی یہ باتیں سن کر کہہ دے کہ میں تو تمہارے لئے سلامتی لایا ہوں اور میرا پیغام سلامتی کا ہے اور یہی پیغام میں پہنچاتا رہوں گا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوتو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ حکم دیا کہ اسلام مخالفین کی تمام زیادتیاں دیکھ کر اور سہہ کر صرف یہ جواب دے کہ میں تمہیں سلامتی کا پیغام ہی دیتا ہوں اور دیتا رہوں گا تا کہ دنیا میں امن قائم ہو۔پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ حکم ہے تو پھر ہر مسلمان کے لئے یہ حکم کتنا ضروری ہے۔آج بھی جب یہ حالات ہیں تو ہمارا یہی فرض ہے کہ اسی طرح پیغام پہنچائیں۔ہمارا