خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 729 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 729

خطبات مسرور جلد 13 729 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء پھر فرمایا کہ ” خدا تعالیٰ کی تائیدیں اور نصرتیں ہمارے شامل حال ہیں۔یہ آج کسی اور مذہب کے پیروکو نصیب نہیں“۔(بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 2 صفحہ 770، احکام جلد 5 نمبر 25 مؤرخہ 10 جولائی 1901 صفحہ 2) پس یہ باتیں جہاں مخالفین اسلام کے اعتراضات کا شافی جواب ہیں وہاں ان کا یہ کہنا ہی کہ دوسرے مذاہب زمانے کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال چکے ہیں اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ مذہب مردہ ہو چکے ہیں۔لیکن ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس پر شوکت کلام میں مسلمانوں کو بھی دعوت ہے کہ اس زمانہ میں اسلام پر میڈیا اور تحریر و تقریر کے ذریعہ سے جو حملے ہو رہے ہیں ان کا توڑ کرنے کے لئے اس شخص کے ساتھ رشتہ جوڑ کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کی عظمت سے ان مخالفین کا منہ بند کریں جو اسلام پر دہشت گردی اور شدت پسندی کا الزام لگاتے ہیں۔جو گروہ یا لوگ تلوار کے زور سے اسلام پھیلانے کا دعوی کرتے ہیں، تلوار کے ذریعہ سے اسلام پھیلانے کا دعوی کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اسلام مخالف طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔یہ زمانہ تلوار کے جہاد کا زمانہ نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں واضح طور پر بتا دیا کہ یہ زمانہ تلوار کے جہاد کا زمانہ نہیں ہے اور تلوار کے جہاد کی اجازت بھی ان مشروط حالات کی وجہ سے ملی تھی جو اسلام کے ابتدائی زمانے میں پیدا ہوئے تھے کہ دشمن اسلام کو تلوار کے زور سے ختم کرنا چاہتا تھا۔اسلام امن اور پیار کی تعلیم سے بھرا پڑا ہے۔یعنی قرآن کریم اس تعلیم سے بھرا ہوا ہے۔پس آج اس زمانے میں اس تعلیم کا پر چار کرنے کی ضرورت ہے اور ہر احمدی کو اس تعالیم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔تبھی اپنے احمدی ہونے کا بھی ہم حق ادا کر سکتے ہیں۔آج ہم احمدیوں نے ہی مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو حقیقت سے آشکار کرنا ہے۔جو لوگ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں وہ جاہل ہیں اور ہم نے ان کو ان کی جہالت کا حال دکھانا ہے۔اسلام کی تعلیم تو امن اور سلامتی کی تعلیم ہے۔قرآن کریم کی روشنی میں ہی ہم نے یہ تعلیم دنیا کو دکھانی ہے۔ان لوگوں کو بتانا ہے کہ تم جو بغیر علم کے کہہ دیتے ہو کہ اسلام کی تعلیم میں شدت پسندی ہے اسی لئے مسلمان بھی شدت پسند بنتے ہیں یہ تمہاری لاعلمی اور جہالت ہے۔مسلمانوں کو بھی بتانا ہو گا کہ آپس کے قتل و غارت اور فرقہ بندی سے تم اسلام کو بدنام کر رہے ہو۔گو ہمارے پاس زیادہ وسائل تو نہیں ہیں لیکن جس حد تک ہم پریس میڈ یا اور مختلف ذرائع سے یہ کام کر