خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 728
خطبات مسرور جلد 13 728 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء ہوتا ہے لیکن یہاں سارے بس ہنس کر چپ ہو گئے۔ان میں عورتیں بھی تھیں مرد بھی تھے۔تو ایک عورت نے کہا کہ اچھا بڑی حیرانی کی بات ہے۔میں نے تو کرسچین سکول میں تعلیم حاصل کی اور بائبل پڑھی ہے مجھے تو کبھی اس کا خیال ہی نہیں آیا۔تو یہ تو ان کا حال ہے۔اگر ایک مسلمان غلط حرکت کرتا ہے تو اسلام کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اگر کوئی دوسرے مذہب والا کرتا ہے تو کہتے ہیں بیچارا معذور ہے پاگل ہے۔ہم مانتے ہیں کہ اسلام کے نام پر بعض مسلمان گروہوں کے غلط عمل نے اسلام کو بدنام کیا ہے لیکن اس پر قرآن کریم کی تعلیم کو نشانہ بنانا اور انتہا تک چلے جانا بھی اسلام کے خلاف دلوں کے بغض اور کینے کا اظہار ہے۔اس کا ایک انتہائی اظہار تو آجکل امریکہ کے ایک صدارتی امید وار کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بولنا ہے۔بہر حال یہ اسلام کے متعلق جو چاہے بولتے رہیں لیکن اسلام کی خوبصورت تعلیم کا مقابلہ نہ کسی مذہب کی تعلیم کر سکتی ہے اور نہ ہی ان کے اپنے بنائے ہوئے قانون کر سکتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ ہم نے حالات کے مطابق قانون بدل دیئے۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں بھی اپنے وعدے کے مطابق قرآن کریم کی حفاظت کے لئے ایک فرستادے کو بھیجا جنہوں نے اسلام کی خوبصورت تعلیم سے ہمیں آگاہ فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: قرآن کریم جس کا دوسرا نام ذکر ہے اُس ابتدائی زمانہ میں انسان کے اندر چھپی ہوئی اور فراموش ہوئی ہوئی صداقتوں اور ودیعتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی رو سے کہ انا له لحفظون۔اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) کا مصداق اور موعود ہے۔وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ(الحجر: 10) کا وعدہ دے کر قرآن اور اسلام کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہے مسلمانوں کو اس مصیبت سے بچا لیا اورفتنہ میں پڑنے نہ دیا۔پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر کرتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں“۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 97) ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 95) یعنی آپ کی جماعت میں شامل ہوئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق۔۔۔قرآن شریف کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے چودھویں صدی کے سر پر مجھے بھیجا ہے۔66 ( ملفوظات جلد 2 صفحہ (193)