خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 56

خطبات مسرور جلد 13 56 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء ناسمجھی کی وجہ سے منہ سے کوئی ایسی بات نکال دی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف تھی تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے زور سے اسے جسم پہ مارا۔(ماخوذ از تقریر سیالکوٹ۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 114-115) پھر ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لاہور میں آریوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں شامل ہونے کی دعوت حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کو بھی دی گئی اور بانیان جلسہ نے اقرار کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی برا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا لیکن جلسے میں سخت گالیاں دی گئیں۔ہماری جماعت کے بھی کچھ لوگ وہاں گئے تھے جن میں مولوی نور الدین صاحب بھی تھے جن کی حضرت مرزا صاحب خاص عزت کیا کرتے تھے۔جب آپ نے سنا کہ جلسے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئیں ہیں تو مولوی صاحب کو کہا کہ وہاں بیٹھا رہنا آپ کی غیرت نے کس طرح گوارا کیا؟ کیوں نہ آپ اٹھ کر چلے آئے؟ اس وقت آپ علیہ السلام ایسے جوش میں تھے کہ خیال ہوتا تھا کہ مولوی صاحب سے بالکل ناراض ہو جائیں گے۔مولوی صاحب نے کہا حضور ! غلطی ہو گئی۔آپ نے فرمایا یہ کیا غلطی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں اور آپ وہاں بیٹھے رہیں۔(ماخوذاز تقریرسیالکوٹ۔انوارالعلوم جلد 5 صفحہ 114-115) پھر آپ نے یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ حضرت خلیفہ اسی الاول کے ساتھ میں بھی گیا ہوا تھا اور مجھے (ماخوذ از خطبات محمود جلد 16 صفحہ 298) بھی بڑی سختی سے ڈانٹا کہ تم وہاں بیٹھے کیوں رہے۔پس آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ لوگ جو الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔کیا یہ لوگ ان جذبات کا ، اس اظہار کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔کاش یہ الزام لگانے والے آپ کے عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں۔پھر جو عبد اللہ آتھم سے ایک مباحثہ ہوا تھا اس کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے۔کہتے ہیں ” کتاب جنگ مقدس جس میں آتھم کا مباحثہ چھپا ہے یہ حضرت مسیح موعود کا مباحثہ اس وقت ہوا جبکہ آپ نے مسیح موعود ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور مولوی آپ کے کافر ہونے کا اعلان کر چکے تھے اور فتوے دے چکے تھے کہ آپ واجب القتل ہیں۔وہ امن جو ( اس زمانے میں جب آپ 1923ء میں یہ بات فرما رہے تھے ) اب جماعت کو حاصل ہے اس وقت ایسا بھی نہ تھا بلکہ اب جیسے ان مقامات پر جہاں تھوڑے احمدی ہیں اور ان کا جو حال ہے ایسا ساری جماعت کا حال تھا اور ہر جگہ یہی حالت تھی۔ایسے موقع