خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 709 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 709

خطبات مسرور جلد 13 709 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2015ء پولیس نے ایک طرح سے house arrest کیا ہوا تھا اور بعد میں مچلکہ بھروا کر کہ کہیں نہیں جاؤں گا اور جب پولیس آئے گی تو میں آجاؤں گا۔پھر پولیس کا پہرہ ان سے ہٹایا گیا۔گویا کہ حملہ آوروں کو تو کھلی چھٹی دی گئی اور جن پر حملہ ہو وہ سارے مجرم بن گئے۔مرزا نصیر احمد صاحب امیر ضلع جہلم بھی ہیں۔جس طرح حملہ ہوا اس سے لگتا ہے کہ یہ پہلے پلان تھا کیونکہ امیر ہونے کی حیثیت سے بعض ایسے exposure بھی ہوتے ہیں، کام کروانے ہوتے ہیں جو انہوں نے کروائے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہم امیر کو پکڑ لیں تو باقی سب احمدی خود بخو د شاید دوڑ جا ئیں۔بہر حال یہ ان کا پلان پہلے سے تھا۔فیکٹری کے اندر تو کسی کو پتا نہیں چلا کہ کیا ہو رہا ہے اور ان کو تو وہاں سے جان بچا کر بھا گنا اور نکلنا بھی مشکل ہو گیالیکن حملہ آوروں نے بلڈوزروں کا انتظام بھی کر لیا۔سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدمی اکٹھے کر لئے۔آگ لگانے کا سامان بھی لے آئے اور کافی دیر تک وہاں جمع ہوتے رہے۔لیکن پولیس نہیں آئی اور پولیس آئی بھی یا قانون نافذ کرنے والے دوسرے ادارے بھی آئے تو بہت دیر سے جب آگ لگ چکی تھی۔بہر حال یہ بھی ان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ایک دولوگوں کو بشمول مالک کے پولیس نے نکلوایا اور بلوائیوں سے بچا کر لے گئے۔مرز انصیر احمد صاحب کی بہو نے مجھے لکھا ہے اور ان کی یہ بہو بھی وہیں فیکٹری میں رہتی تھیں۔کہتی ہیں کہ قمر صاحب جن پر یہ مقدمہ چلایا گیا ہے اور توہین قرآن کی دفعہ لگائی گئی ہے میں ان کی اہلیہ کو ملنے گئی تو حیران رہ گئی کہ قمر صاحب کی اہلیہ اس طرح مسکرا کر مل رہی تھیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں حالانکہ ان کے خاوند پر جیسا کہ میں نے کہا بڑی سخت دفعہ لگی ہوئی ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ ان کے حوصلہ اور صبر کو بڑھائے اور دشمنوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچائے۔مرزا انصیر احمد صاحب کی اہلیہ اور بہو اور ان کے بچوں نے بھی جوصبر اور شکر کا اظہار کیا ہے وہ بھی قابل قدر ہے۔مجھے فکر تھی کہ ایسے حالات میں ان میں سے کسی کے منہ سے کوئی ناشکری کا کلمہ نہ نکل جائے لیکن ان کی بہو کے خط سے، بیٹے کے خط سے اور مرزا انصیر احمد صاحب سے میں نے خود بھی بات کی اور اسی طرح ان کے مختلف قریبیوں اور عزیزوں کے خطوط جو مجھے ملے ہیں ان سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور کامل رضا کا اظہار کیا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خونی رشتہ ہونے کا بھی اس صبر اور شکر کے ادا کرنے سے نمونہ دکھایا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔مال تو آنی جانی چیز ہے جیسا کہ میں نے کہا جس خدا نے پہلے دیا تھا وہ اب بھی دے گا اور انشاء اللہ بڑھ کے دے سکتا ہے اور بڑھ کے دے گا۔