خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 708
خطبات مسرور جلد 13 708 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2015ء کو ابتلاء میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن آگئیں لگانے والوں اور احمدیوں کو ابتلاء میں ڈالنے والوں کی کوئی بھی خواہشات پوری نہیں ہو سکیں۔ہم نے دیکھا کہ جو ان کے دلوں میں تھا وہ ان کے دلوں کی حسرتیں رہ گئیں۔احمدیوں کو کشکول پکڑوانے والوں کو ہم نے بھیک مانگتے دیکھا۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا سلوک جماعت سے ہوتا ہے۔پس یہ ابتلا ہمارے ایمانوں کو ہلانے والے نہیں بلکہ مضبوط کرنے والے ہیں۔مالی نقصان اگر ہوا تو خدا تعالیٰ پورا کر دیتا ہے۔یہ تو کوئی ایسی چیز نہیں۔بیشمار احمدی ہیں جو ان ابتلاؤں میں گزرے اور پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا۔اگر ان مالکان کا نقصان ہوا تو یہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ پورا ہو جائے گا۔یہ فیکٹری جو چپ بورڈ فیکٹری تھی یہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے بیٹے صاحبزادہ مرز امنیر احمد صاحب کی تھی اور ان کی وفات کے بعد ان کی اولا داس کی مالک تھی۔مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جس طرح ایسے نقصانات پر ایک مومن کا اظہار ہونا چاہئے وہ اظہار ان لوگوں نے کیا اور شکر کے کلمات ہی ان کے منہ سے نکلتے رہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے احمدی کارکنان کی جان مال کو بھی محفوظ رکھا اور انہیں بھی بچایا اور عورتوں اور بچوں کو بھی بچایا۔ان کی عزتیں بھی محفوظ رکھیں۔مرز نصیر احمد طارق جو مرزا امنیر احمد صاحب کے بڑے بیٹے ہیں اس فیکٹری کے سر براہ تھے۔وہیں اس کے اندر ہی رہتے تھے۔اسی طرح ان کا بیٹا بھی جو فیکٹری میں کام کرتا ہے اس کا گھر بھی فیکٹری کے اندر تھا۔بیٹا تو حملہ آوروں کے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے اپنی بیوی کے علاج کے سلسلے میں لاہور کے لئے نکل گیا تھا اس لئے وہ وہاں موجود نہیں تھا لیکن مرز انصیر احمد صاحب اور ان کی بیوی گھر پر تھے۔جب بلوائیوں نے گھیراؤ اور جلاؤ کا سلسلہ شروع کیا تو ان کے گھر پر بھی حملہ کر دیا اور گھروں کے دروازے کھڑکیاں توڑ کر اندر آگئے۔ارد گرد آگ لگا دی لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ نے بچانا تھا۔اس موقع پر اس وقت پولیس پہنچ گئی جس نے ان حملہ آوروں کو تو نہیں روکا لیکن بہر حال ان کو کسی طریقے سے پچھلے دروازوں سے گھر سے نکال دیا اور پھر فیکٹری کی چاردیواری سے باہر نکل کر جنگل میں کافی دیر یہ لوگ چلتے رہے اور ایک جگہ پہنچ کر پھر سواری ملی جہاں سے یہ محفوظ جگہ پہنچے۔اسی طرح بہت سارے احمدی ور کر بھی جو تھے وہ بھی ادھر ادھر جنگل میں چھپتے رہے۔ان کو بھی کسی طرح ڈھونڈ کر بعد میں خدام نے محفوظ مقامات پر پہنچایا۔ان کے گیٹ کے ایک سیکیورٹی انچارج تھے۔قمر احمد ان کا نام ہے۔ان کو پولیس نے گرفتار بھی کر لیا۔وہ جیل میں ہیں۔ان پر دفعہ بھی بڑی سخت لگائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی رہائی کا بھی سامان فرمائے اور منصفوں کو بھی توفیق دے کہ وہ انصاف کرنے والے ہوں۔اسی طرح مرز انصیر احمد کو بھی