خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 704
خطبات مسرور جلد 13 704 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2015ء کی طرف سے مذمتی خطاب ایک غیر معمولی بات ہے۔اس سے جماعت احمدیہ کا امن کے قیام کے لئے کردار واضح ہوتا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ خطاب فرمایا تھا جس کو میں نے وہاں quote کر کے ان کو بتایا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جوفر مایا تھا اس کا ایک حصہ میں نے وہاں بیان کیا تھا جو یہ تھا کہ یہ ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اعلان کر دیں کہ ہم اس قسم کی خونریزی کو جائز نہیں سمجھتے ( جیسی کہ جاپان میں ایٹم مار کے کی گئی تھی ) خواہ حکومتوں کو ہما را اعلان برا لگے یا اچھا“۔(خطبات محمود جلد 26 صفحہ 315) سیہ اس وقت حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اعلان فرمایا تھا۔پھر ایک بدھسٹ فرقہ کے چیف پریسٹ کہتے ہیں کہ میں بدھسٹ ہوں لیکن امام جماعت کی باتیں سن کر ہماری آنکھوں میں آنسو آ گئے ہیں۔پھر انہوں نے ملاقات کے بعد نماز بھی پڑھی اور وہاں ہال میں بیٹھے رہے اور آبدیدہ رہے۔2013ء میں بھی یہ مجھے ملے تھے۔اس وقت ایک دوست نے ان کو کہا تھا کہ آپ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ آپ کو اپنا وجود دکھائے۔کہنے لگے کہ میں تو خدا کا قائل ہی نہیں۔میں دعا کیا کروں؟ لیکن آج یہی بدھسٹ پریسٹ جب دوبارہ مجھے ملے ہیں تو وہاں با قاعدہ نماز بھی پڑھی ہے اور آنکھوں میں آنسو بھی لئے بیٹھے رہے۔ایک جاپانی دوست کہتے ہیں کہ میں نے آج یہ سیکھا ہے کہ جو لوگ اسلام کو داعش کے ساتھ جوڑتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔آج جماعت کے خلیفہ نے ہمیں امن کا پیغام دیا ہے۔آج کے دور میں دنیا امن کے خلاف چل رہی ہے اور میں امام جماعت احمدیہ کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔آجکل جو ہم بم پھینکنے اور فضائی حملے کرنے کے لئے تحریکیں چلا رہے ہیں وہ سب بے بنیاد ہیں اور معصوموں کی جان لینے کا باعث بن رہے ہیں۔کن پھر ایک جاپانی خاتون ہارا (Hara) صاحبہ نے کہا کہ میرا اسلام کے بارے میں تاثر تھا کہ اسلام نہایت خطر ناک مذہب ہے۔لیکن آج امام جماعت احمدیہ کا خطاب سن کر مجھے احساس ہوا ہے کہ اسلام تو دراصل سب سے زیادہ امن پسند مذہب ہے اور یہ بات میرے لئے بہت حیران ہے۔جب جماعت کے خلیفہ نے جاپان پر ہونے والی ایٹمی حملے کی سترہویں anniversary کا ذکر کیا تو اس سے پتا چل رہا تھا کہ ان کو دنیا کے حالات سے بخوبی آگاہی ہے اور خلیفہ کی لوگوں کے لئے ہمدردی اور پیار قابل ستائش ہے۔پھر ایک جاپانی دوست کہتے ہیں کہ آج کی تقریر سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اسلام احمد بیت