خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 689
خطبات مسرور جلد 13 689 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ عمارت خرید کر اس کو مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا۔جون 2013ء میں یہ عمارت خریدی گئی تھی۔اور اس کی خرید اور تعمیر وغیرہ پر گل تقریباً تیرہ کروڑ اٹہتر لاکھ ئین (Yen137800000) کی رقم خرچ ہوئی ہے۔یہ تقریباً کوئی بارہ لاکھ ڈالر کے قریب بن جاتی ہے۔اس میں سے تقریباً نصف سے کچھ کم تو مرکز کی گرانٹ تھی یا مد تھی۔باقی لوگوں نے ، یہاں کی جماعت چھوٹی سی ہے، بڑی قربانی کر کے اس مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔جب یہ جگہ خریدی گئی تو پہلے تو یہی تھا کہ بڑی آسانی سے مسجد کی اجازت مل جائے گی لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ بہت مشکل لگ رہا تھا کہ اس مسجد کی تعمیر کی اجازت ملے۔جماعت کے نام رجسٹریشن اور بطور مسجد استعمال کرنا بڑا مشکل لگ رہا تھا۔ایک دفعہ تو وکلاء نے مسجد کمیٹی کو مشورہ دیا کہ یہاں کام بہت مشکل معلوم ہوتا ہے اور جماعت رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کے نام انتقال اور دیگر مسائل کا سامنا آ سکتا ہے۔لہذا بہتر یہی ہے کہ اس معاہدے سے دستبردار ہو جائیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے راستے کی یہ ساری روکیں جو تھیں وہ ہٹا دیں۔لوکل لوگوں کی طرف سے مسائل پیدا ہونے کا یا اعتراض آنے کا خدشہ تھا۔کیونکہ یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے۔اس شہر میں یہ پہلی مسجد ہے لیکن لوکل لوگوں کے ساتھ جب میٹنگز کی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں کو بھی ایسا انشراح عطا کر دیا کہ انہوں نے فوراً اپنی رضامندی ظاہر کر دی۔بعض ان میں سے اس وقت یہاں بیٹھے ہوئے موجود بھی ہوں گے۔یہ تمام باتیں یہاں کے رہنے والے احمدیوں کے لئے ایمان اور یقین میں اضافے کا باعث ہونی چاہئیں۔اور میں پھر دوبارہ کہوں گا کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔مسجد بیت الاحد کے لئے بعض بڑی مالی قربانی کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔جب مسجد بنانے کی تحریک کی گئی تو ایک احمدی بھائی کہتے ہیں کہ جب ان کو محصل نے یا سیکرٹری مال نے ،جس نے بھی تحریک کی تو یہ احمدی ان کو اپنے ساتھ لے گئے کہ میرے ساتھ گھر چلیں اور جو کچھ ہے میں پیش کر دیتا ہوں۔ان کی اہلیہ جاپانی ہیں۔جب وہ گئے اور چندے کا بتایا تو انہوں نے مختلف ڈبے لا کے سامنے رکھ دیئے اور جب ان میں سے رقمیں نکالی گئیں یا دیکھا گیا تو یہ ساری چیزیں تقریبا دس ہزار ڈالر مالیت کی تھیں۔اسی طرح صدر صاحب جاپان نے یہ بھی لکھا کہ بعض احباب کے حالات سے ہمیں آگاہی تھی کہ وہ زیادہ آسودہ حال نہیں ہیں لیکن انہوں نے اپنے اخراجات کو محدود کر کے اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے لئے قربانی کی سعادت حاصل کی اور ایک وقت میں انہوں نے جو رقم دینی تھی اس میں دو اڑھائی لاکھ ڈالر کی کمی آرہی