خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 681
خطبات مسرور جلد 13 681 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء بڑھائیں وہاں اسلام کی خوبصورت تعلیم کے ساتھ دوسروں کو تبلیغ کریں۔پس یہ مسجد جو بنائی ہے تو اس کا حق ادا کریں۔اس حق کو ادا کرنے کے لئے اسے پانچ وقت آباد کریں۔اس کا حق ادا کرنے کے لئے اپنی عبادتوں کے معیار بڑھائیں۔اس کا حق ادا کرنے کے لئے اپنی عملی حالتوں کے جائزے لیں۔اس کا حق ادا کرنے کے لئے تبلیغ کے میدان میں وسعت پیدا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا کہ جہاں اسلام کا تعارف کروانا ہو وہاں مسجد بنا دو تو تبلیغ کے راستے اور تعارف کے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 119 ) پس یہ مسجد آپ پر ذمہ داری ڈال رہی ہے کہ جہاں عبادتوں کے معیاروں کو اونچا کریں وہاں تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔اب افتتاح سے پہلے ہی میڈیا نے اس مسجد کی کافی کو ریج بھی دے دی ہے اور اس حوالے سے ایک امن پسند اسلام کا تعارف اہل ملک کے سامنے پیش کیا ہے۔پس اس تعارف سے فائدہ اٹھا نا اب یہاں رہنے والے ہر احمدی کا کام ہے۔جاپانیوں کے لئے مسجد تو کوئی نئی چیز نہیں ہے۔یہاں جیسا کہ میں نے بتایا کہا جاتا ہے کہ سو کے قریب مساجد ہیں تو ہماری اس مسجد کے افتتاح کو اتنی اہمیت کیوں؟ اس لئے کہ عام مسلمانوں سے ہٹ کر ہم اسلام کی تصویر دکھاتے ہیں۔وہ حقیقی تصویر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائی اور جس کے دکھانے کے لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے غلام صادق کو بھیجا ہے۔پس اس تصویر کو دکھانے کے لئے آپ کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی اور یہ ذمہ داریاں نہیں ادا ہو سکتیں جب تک کہ آپ صرف عقیدے کی پختگی تک ہی قائم نہ ہوں بلکہ عملی حالتوں کے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے کی بھی کوشش کرنے والے ہوں۔آپس کی محبت اور پیار اور بھائی چارے میں بڑھنے والے ہوں۔جہاں ہمارے آقا و مطاع کی نظر ہے جہاں آپ کے غلام صادق کی نظر ہے ، ہمیں اپنی نظریں اس طرف پھیرنی ہوں گی۔آپ نے کیا کیا؟ آپ نے کیا دکھایا؟ آپ نے ماحول میں بھی اس پیار اور محبت کا عملی اظہار کیا جس کی تعلیم دی۔اس کا ذکر ہمیں قرآن کریم میں بھی ملتا ہے۔پس صرف یہ کہہ دینا کہ الحمد للہ ہم نے زمانے کے امام کو مان لیا، الحمدللہ ہم احمدی ہیں، کافی نہیں ہے۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں جن باتوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے اس کے اس زمانے میں مخاطب احمدی مسلمان ہی ہیں کیونکہ ہم ہی ہیں جنہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے۔ہم ہی ہیں جن میں نظام خلافت دین کی تمکنت کے لئے جاری ہے۔ایک احمدی مسلمان کے لئے ، اس