خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 680
خطبات مسرور جلد 13 680 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء ترقی دی۔تقریباً تمام ہی ایسے ہیں جن کے حالات یہاں آکر پاکستان کی نسبت معاشی لحاظ سے بھی بہتر ہوئے۔آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے باپ دادا نے احمدیت قبول کی اور یقیناً ان میں سے ایسے بھی ہوں گے جن کی خواہش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی با تیںسن کر یہ ہو کہ کاش ہمیں موقع ملے تو ہم بھی جاپان میں بھی اور دنیا میں بھی پھیل کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کا پیغام پہنچا ئیں لیکن ان کی حسرت ان کے دلوں میں رہی۔لیکن آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ جاپان میں بھی آئے اور دنیا میں بھی نکلے تا کہ اس پیغام کو پہنچا سکیں۔کیا صرف معاشی آسودگی حاصل کرنے کے لئے آپ جاپان میں آئے تھے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اس بات پر دکھ کا اظہار فرما رہے ہیں کہ دوسرے مسلمانوں نے جاپان میں اسلام کو کیا پھیلانا ہے کہ یہ لوگ تو اللہ تعالیٰ کے کلام ووحی کا دروازہ بند کر کے اسلام کو مردہ مذہب بنا چکے ہیں اور جاپانیوں کو یا دنیا میں کسی بھی ملک کے رہنے والوں کو مردہ مذہب کی کیا ضرورت ہے۔آپ فرماتے ہیں یہ تو تم لوگ ہو جو اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت دے سکتے ہو اور اس کی خوبیاں دنیا کو بتا سکتے ہو۔جب اللہ تعالیٰ سے تعلق کے راستے بند کر دیئے تو مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں میں کیا فرق رہ گیا۔اگر اسلام کی برتری دنیا پر ثابت کرنی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا کر کے ثابت کی جاسکتی ہے۔دنیا کو یہ بتا کر برتری ثابت کی جاسکتی ہے کہ اسلام کا خدا اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار۔پس یہ برتری ثابت کرنے کے لئے یہاں آ کر آپ کی معاشی آسودگی ہی کافی نہیں اور یقینا نہیں ہے۔بلکہ ہر ایک کو اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے۔اسلام کو پھیلنے کے لئے کسی تلوار کی ضرورت نہیں ہے۔اسلام کو پھیلنے کے لئے ان لوگوں کی ضرورت ہے جن کا خدا تعالیٰ پر کامل اور مکمل یقین اور ایمان ہو۔اسلام کو پھیلنے کے لئے ان لوگوں کی ضرورت ہے جن کی عبادت کے معیار بلند ہوں۔اسلام کو پھیلنے کے لئے ان لوگوں کی ضرورت ہے جو قتل و غارت گری کرنے کے بجائے اپنے نفسوں کے خلاف جہاد کر کے اپنی عملی حالتوں کو درست کرنے والے ہوں۔مسلمانوں کی حالت کا یہ بڑا سخت المیہ ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی زندہ وحی اور تعلق کا انکار کر بیٹھے ہیں اور دوسری طرف تلوار سے اسلام کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔سختی سے اسلام کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔متشدد ہوتے چلے جا رہے ہیں۔معصوموں کو قتل کر کے اسلام کی خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں۔اب پچھلے دنوں میں پیرس میں جو واقعہ ہوا انتہائی ظالمانہ فعل تھا۔یہ لوگ یہ عمل کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو نہیں بلکہ اس کی ناراضگی کو مول لے رہے ہیں۔پس اس لحاظ سے بھی آج احمد یوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جہاں اپنی عبادتوں کے معیار