خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 679 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 679

خطبات مسرور جلد 13 679 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء مسجد ہے لیکن یہ بات بھی کوئی ایسی اہم بات نہیں ہے کہ ہم سمجھیں کہ ہم نے اپنی انتہاؤں کو حاصل کر لیا ہے۔ہمارا مقصد تو تب پورا ہو گا جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے کے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ مقصد یہ ہے کہ ہمارا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو اور ہم اس کی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ہم اس کی مخلوق کا حق ادا کرنے والے ہوں اور ہم اپنی عملی حالتوں کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے اونچے معیار حاصل کرنے والے ہوں۔ہم اسلام کے خوبصورت پیغام کو، اس کی خوبصورت تعلیم کو اس قوم کے ہر فرد تک پہنچانے والے ہوں۔جب جاپان کو مذہبی آزادی ملی اور جاپانیوں کا بھی مذہب کی طرف رجحان پیدا ہوا تو اسلام کی طرف بھی توجہ پیدا ہوئی۔جب یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم میں لائی گئی تو آپ نے جاپانیوں تک حقیقی اسلام پہنچانے کی خواہش کا بڑی شدت سے اظہار کیا۔آج سے ایک سوسال پہلے یہ واضح فرمایا کہ اگر اسلام کی طرف جاپانیوں کا رجحان پیدا ہوا ہے تو پھر حقیقی اسلام کا پیغام بھی انہیں پہنچانا چاہئے ورنہ جاپانیوں کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ مردہ مذہب کی طرف جائیں۔آپ نے فرمایا کہ جن کے اندر یعنی دوسرے مسلمانوں کے اندر خود اسلام کی روح نہیں ہے وہ دوسروں کو کیا فائدہ پہنچائیں گے۔فرمایا کہ دوسرے مسلمان تو وحی کا دروازہ بند کر کے اپنے مذہب کو مردے کی طرح بنا چکے ہیں۔آپ نے بڑے درد سے فرمایا کہ دوسرے مسلمان یہ بات کہہ کے کہ وحی کا دروازہ بند ہو گیا صرف اپنے پر ہی ظلم نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اپنے عقائد اور خراب اعمال دکھا کر اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ان کے پاس کونسا ہتھیار ہے جس سے غیر مذہب کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔آپ نے اپنے ماننے والوں کو کہا کہ چاہئے کہ اس جماعت میں چند آدمی اس کام کے لئے تیار کئے جائیں جو لیاقت اور جرأت والے ہوں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ (452) پھر آپ نے جاپانیوں میں تبلیغ کے لئے کتاب لکھنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 20) پس آپ علیہ السلام جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے آئے تھے جاپان بھی اس سے باہر نہیں، جزائر بھی اس سے باہر نہیں اور باقی دنیا بھی اس سے باہر نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ آپ لوگوں کو اس ملک میں آنے کا موقع میسر آیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ آپ میں سے ایسے بھی ہیں جن کو یہاں آ کر اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروباروں میں