خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 675 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 675

خطبات مسرور جلد 13 675 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء باندھنی پڑتی ہے، دھیاں لٹکنے لگتی ہیں اور بعض کو اس کی مدد کے لئے اس طرح نگا دکھا کر الہام کرتا ہے۔بعض کو لفظی الہام سے بھی مدد کا حکم دیتا ہے مگر بعض کو اس کی حالت دکھا کر تحریک کرتا ہے۔مگر تو گل کے صحیح مقام پر جولوگ ہوتے ہیں وہ کسی سے منہ سے مانگتے نہیں۔(ماخوذ از الفضل 8 نومبر 1939 ء صفحہ 7-6 جلد 27 نمبر 256) اللہ تعالیٰ لوگوں کی توجہ اس طرف پھیر دیتا ہے اور انتظام کر دیتا ہے لیکن وہ خود جن کو اللہ پر توکل ہوتا ہے وہ خود کسی کے پاس نہیں جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے خود بھیجتا ہے۔تو یہ توکل کا بہت اعلیٰ مقام ہے جو آپ کو حاصل تھا۔ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ حضرت خلیفہ المسح الاول کا جو مقام تھا بہت بالا مقام تھا ، بہت بلند مقام تھا ، بڑے ولی اللہ تھے لیکن اس میں غلو بھی نہیں ہونا چاہئے۔یہ نہ ہو کہ اس کو اتنا بڑھا دو کہ انتہائی ایسے مقام پر لے جاؤ جہاں مبالغہ ہونا شروع ہو جائے۔آپ فرماتے ہیں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی اولاد میں سے بعض نے مبالغہ کرنے کی کوشش کی اور بعض غیر مبائع بھی مبالغہ کرتے ہیں۔لیکن غیر مبائعین جو ہیں یہ آپ کی محبت میں نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد تو اپنا مقصد حاصل کرنا ہے۔لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سچائی کے اظہار سے بھی نہیں رکنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سچائی کا اظہار بھی کیا ہے اور آپ کے مقام کو بھی بلند کیا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بیشک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بڑی تعریف فرمائی۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بڑی تعریف فرمائی۔مگر قرآن اس لئے نہیں اترا تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عزت قائم کی جائے۔نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں یہ کہیں ذکر آتا ہے کہ ہم نے تجھے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ تو نور الدین کی عزت قائم کرے۔ہاں جو سچائی اور حقیقت تھی اس کا آپ نے اظہار کر دیا۔مثلاً آپ نے فرمایا ”چہ خوش بودے اگر ہر یک ز امت نورد میں بودے“ مگر یہ تو ایک سچائی ہے جو کہنی چاہئے تھی۔حضرت خلیفہ اول نے بڑی قربانیاں کی ہیں۔اب جس نے قربانی کی ہو اس کی قربانی کا اظہار نہ کرنا ناشکری ہوتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ