خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 674 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 674

خطبات مسرور جلد 13 674 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تار دے دیا کہ جس حالت میں بھی ہوں آجائیں۔آپ مطب میں بیٹھے ہوئے تھے۔کوٹ بھی نہیں پہنا ہوا تھا ، پیسے بھی پاس نہ تھے۔آپ نے غالباً حکیم غلام محمد صاحب مرحوم امرتسری کو ساتھ لیا اور اسی طرح اٹھ کر چل پڑے۔حکیم غلام محمد صاحب نے کہا کہ میں گھر سے پیسے وغیرہ لے آؤں مگر آپ نے کہا کہ نہیں حکم یہی ہے کہ جس حالت میں ہو چلے آؤ۔سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول چلنے میں کمزور تھے جیسا پہلے واقعہ بیان ہو چکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو جاتے تو آپ پیچھے رہ جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہو کر فرماتے کہ مولوی صاحب کہاں ہیں اور حضرت خلیفہ اول بعد میں آکر ملتے۔اس طرح پھر پیچھے رہ جاتے۔پھر کھڑے ہو کر انتظار فرماتے جیسا کہ میں نے واقعہ سنایا۔مگر آپ غالباً حکیم غلام محمد صاحب کو ساتھ لے کر پیدل بٹالہ پہنچے۔سٹیشن پر جا کر بیٹھے۔چلنے میں کمزور تھے لیکن اس کے باوجود کیونکہ حکم آیا کہ فوراً پہنچو اسی طرح پیدل چل کر بٹالہ پہنچ گئے۔اب دیکھیں یہ اخلاص اور اطاعت ہے کہ زیادہ چلنے میں آپ ย کو دقت ہوتی تھی لیکن حکم ہوا تو بٹالے تک تقریبا گیارہ میل کا فاصلہ پیدل پہنچے ہیں۔حکیم صاحب نے کہا کہ اب کرائے وغیرہ کا کیا انتظام ہو گا۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ یہاں بیٹھو اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی انتظام کر دے گا۔تو گل کی یہ مثال ہے۔اتنے میں ایک شخص آیا اور دریافت کیا کہ کیا آپ حکیم نور الدین صاحب ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں۔وہ شخص کہنے لگا کہ ابھی گاڑی آنے میں دس پندرہ منٹ باقی ہیں اور میں نے سٹیشن ماسٹر سے کہہ بھی دیا ہے کہ وہ آپ کا انتظار کرے۔میں بٹالے کا تحصیل دار ہوں میری بیوی بہت سخت بیمار ہے آپ ذرا چل کر اسے دیکھ آئیں۔آپ گئے ، مریضہ کو دیکھ کر نسخہ لکھا اور سٹیشن پر واپس آگئے۔وہ شخص تحصیل دار بھی ساتھ آیا اور کہا کہ آپ چل کر گاڑی میں بیٹھیں میں ٹکٹ لے کر آتا ہوں اور وہ سیکنڈ کلاس کا ایک ٹکٹ اور ایک تھرڈ کلاس کا لے آیا اور ساتھ پچاس روپے نقد دیئے اور کہا کہ یہ حقیر ہدیہ ہے اسے قبول فرمائیں۔آپ دہلی پہنچے اور جا کر میر ناصر نواب صاحب کا علاج کیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ صحیح تو کل کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرے بندے کا تو کل صحیح ہے یا نہیں۔ممکن ہے اس آزمائش کے لئے بعض دفعہ وہ فاقے بھی دے۔تو کل میں یہ نہیں ہوتا کہ ہر دفعہ پورا ہو جائے۔بعض دفعہ آزمائش آتی ہے۔فاقے بھی ہوتے ہیں۔ننگا بھی کر دے۔موت کے قریب کر دے تا بندوں کو بتائے کہ میرے اس بندے کا انحصار تو کل پر ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لنگوٹی