خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 667 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 667

خطبات مسرور جلد 13 667 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء ایک حضرت خلیفہ امسیح الاول " بھی تھے۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ میں وہ لوگ بہترین مددگار اور معاون ثابت ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی نبوت سے پہلے ہی حضرت خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توجہ آپ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف پھری اور آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنی شروع کیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوئی مسیحیت کیا تو نبوت کے متعلق بعض مضامین اپنی ابتدائی کتب فتح اسلام اور توضیح مرام میں بیان فرمائے۔ایک شخص نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بدظنی رکھتا تھا ان کتابوں کے پروف کسی طرح دیکھے۔پریس میں شاید پڑھے ہوں۔وہ جموں گیا اور اس نے کہا آج میں نے مولوی نورالدین صاحب کو مرزا صاحب سے ہٹا دینا ہے۔اس وقت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر چکے تھے۔دعوی مسیحیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فتح اسلام اور توضیح مرام کی اشاعت کے زمانے میں کیا جو بیعت سے قریبا دو سال بعد ہوا اور انہی میں مسئلہ اجرائے نبوت کی بنیا د رکھی۔جب اس شخص نے آپ کی کتب میں نبوت کے جاری ہونے کے متعلق پڑھا تو اس نے کہا اب تو یقیناً مولوی نور الدین صاحب مرزا صاحب کو چھوڑ دیں گے کیونکہ مولوی صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت رکھتے ہیں۔جب وہ یہ نہیں گے کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبی آ سکتا ہے تو وہ مرزا صاحب کے مرید نہیں رہیں گے۔چنانچہ اس شخص نے اپنے ساتھ ایک پارٹی لی ، کچھ لوگ لئے اور خراماں خراماں حضرت مولوی صاحب کی طرف چلے۔جب آپ کے پاس پہنچے تو اس شخص نے حضرت مولوی صاحب سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے کہا فرمائیے کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔اس شخص نے کہا کہ اگر کوئی شخص کہے کہ میں اس زمانے کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں نبوت جاری ہے تو آپ اس کے متعلق کیا خیال کریں گے۔اس شخص نے تو یہ خیال کیا تھا کہ گویا میں ایک مولوی کے پاس جارہا ہوں لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ میں ایک مولوی کے پاس نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے پاس جارہا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ اپنے سلسلے کا کام لینا چاہتا ہے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ اس سوال کا جواب تو دعوی کرنے والے کی حالت پر منحصر ہے کہ آیا وہ اس دعوے کا مستحق ہے یا نہیں۔اگر یہ دعوی کرنے والا انسان راستباز نہ ہوگا تو ہم اسے جھوٹا کہیں گے اور اگر دعوی کرنے والا کوئی راستباز انسان ہے تو میں یہ سمجھوں گا کہ غلطی میری ہے،