خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 655 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 655

خطبات مسرور جلد 13 655 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2015ء کہ میں نے قرآن کریم کی تعلیم لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ کے مطابق قربانی پیش کی ہے۔چنانچہ ان کی اہلیہ نے اپنی شادی کا زیور تحریک جدید میں دے دیا۔لاہور کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک خاتون کا تحریک جدید کا وعدہ معیاری تھا۔امیر تھیں، صاحب حیثیت تھیں لیکن پھر بھی جب انہیں ٹارگٹ پورا کرنے کے حوالے سے مزید دینے کی درخواست کی تو فوراً اٹھ کر کمرے میں گئیں اور زیورات کا ایک ڈبہ لے آئیں اور کہنے لگیں کہ یہ سب خدا تعالیٰ کی راہ میں ہی دینا ہے۔چنانچہ انہوں نے اس میں سے وزنی کڑے نکالے اور تحریک جدید میں پیش کئے۔اب دیکھیں ایک عورت ہندوستان کے جنوب میں رہتی ہے۔مختلف قبیلے مختلف لوگ مختلف قوم، زبان مختلف ، ایک پنجاب پاکستان میں رہتی ہے، تیسری جرمنی میں رہتی ہے لیکن قربانی کرنے کی روح اور سوچ ایک ہے۔یہ اکائی ہے۔یہ قربانی کے معیار ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت میں پیدا فرمائے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جو احمد یوں پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔افریقہ کے ملک مالی کے ایک مخلص کا واقعہ بیان کرتے ہوئے وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ان کی پوسٹنگ مالی کے ریجن سیگو (Segou) میں ہوئی۔ایک دن نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد معلم صاحب نے ایک شخص کو خاکسار سے ملوایا کہ یہ مولویوں کے سب سے بڑے خاندان سے ہیں اور انہوں نے بیعت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں چندہ دینے آیا ہوں کیونکہ میں نے آج ریڈیو میں خلیفتہ اسیح کا خطبہ چندہ کے متعلق سنا ہے۔کہتے ہیں خاکسار نے انہیں انفاق فی سبیل اللہ کی برکات بتانے کے لئے آیت لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔سنائی تو وہ بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے ریڈیو پر جو خطبہ سنا تھا اس میں بھی یہی آیت سنی تھی۔سوچا تھا کہ پانچ ہزار سیفا چندہ دوں مگر بعد میں شیطان نے دل میں وسوسہ ڈال دیا کہ صرف دو ہزار سیفا ہی کافی ہے لیکن اب جب آپ نے یہی آیت دوبارہ سنائی ہے تو میرے دل کو یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی نظام ہے اور اب میں پانچ ہزار سیفہ ہی چندہ دوں گا۔چنانچہ انہوں نے پانچ ہزار سیفا چندہ دیا تو اللہ کے فضل سے نومبائعین مالی قربانی میں بھی اب بہت آگے بڑھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والوں پر جس طرح فضل فرماتا ہے اور جس طرح قربانی کو پھل لگتے ہیں اور پھر اس کے نتیجہ میں ان کے ایمان میں اور اخلاص میں مزید ترقی ہوتی ہے اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔کانگو سے ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ایک زمیندار ہوں اور کھیتی باڑی کرتا ہوں۔