خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 647
خطبات مسرور جلد 13 647 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اکتوبر 2015ء موت طاری کرتا ہے کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں وہ کب مدد کے لئے کسی کو آواز دیتا ہے۔کیا یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑے پہننے کے لئے محلے والوں کو آواز میں دیتا پھرے کہ آؤ مجھے کپڑے پہناؤ یا تھائی دھونے کے لئے ، ( پلیٹ دھونے کے لئے ) دوسروں سے کہتا پھرے کہ مجھے آ کے پلیٹ دھلوا دو یا قلم اٹھانے کے لئے دوسرے کا محتاج بنتا ہے۔انسان دوسروں سے اس وقت مدد کی درخواست کرتا ہے جب وہ جانتا ہے کہ یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ورنہ جس کو یہ خیال ہو کہ میں خود کر سکتا ہوں وہ دوسروں سے مد نہیں مانگا کرتا۔وہی شخص دوسروں سے مدد مانگتا ہے جو یہ سمجھے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔اسی طرح خدا تعالیٰ سے بھی وہی شخص مانگ سکتا ہے جو اپنے آپ کو اس کے سامنے مرا ہوا سمجھے اور اس کے آگے اپنے آپ کو بالکل بے دست و پا ظاہر کرے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان میرے رستے میں جب تک مر نہ جائے اس وقت تک دعا دعانہ ہوگی کیونکہ پھر تو بالکل ایسا ہی ہے کہ ایک شخص قلم اٹھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہو دوسروں کو مدد کے لئے آواز میں دے۔کیا اس کا ایسا کرنا ہنسی نہ ہوگا۔جب ایک شخص جانتا ہو اس میں اتنی طاقت ہے کہ قلم اٹھا سکے تو اس کی مدد نہیں کرے گا۔اسی طرح جو شخص یہ مجھتا ہے کہ میں خود فلاں کام کر سکتا ہوں وہ اگر اس کے لئے دعا کرے تو اس کی دعا در اصل دعا نہیں ہوگی۔دعا اسی کی دعا کہلانے کی مستحق ہوگی جو اپنے اوپر ایک موت طاری کرتا ہے اور اپنے آپ کو بالکل پیچ سمجھتا ہے۔جو انسان یہ حالت پیدا کرے وہی خدا کے حضور کا میاب اور اسی کی دعائیں قابل قبول ہو سکتی ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 9 صفحہ 104) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے اندر اخلاق کے بھی اعلیٰ معیار قائم کریں اور عبادتوں کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہوں اور خدا تعالیٰ ہمیں مقبول دعاؤں کی بھی توفیق دے اور اس کا حق ادا کرنے والا بنائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 20 نومبر 2015 ء تا 26 نومبر 2015 ، جلد 22 شماره 47 صفحہ 05-08)