خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 636 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 636

خطبات مسرور جلد 13 636 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اکتوبر 2015ء ย پہننے کی کوشش کرتا ہے تو پھر اسی طرح ذلیل ہوتا ہے یہی انجام ہوتا ہے۔ہم کسی کے لئے بددعانہ کریں پھر ایک جگہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل کی نرمی اور امت کے لئے درد بلکہ انسانیت کے لئے بھی درد کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ کسی کو بد دعا دینے کی لوگوں کو بڑی جلدی ہوتی ہے۔ہمارا یہی اصول ہونا چاہئے کہ ہم کسی کے لئے بددعا نہ کریں بلکہ ہمیں اپنے مخالفین کے لئے دعا کرنی چاہئے۔آخر انہوں نے ہی ایمان لانا ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں چوبارے میں رہتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کمرے کے اوپر آپ نے ان کے لئے ایک اور کمرہ بنوایا تھا اور اوپر رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مکان کے نچلے حصے میں تھے کہ ایک رات نچلے حصے سے مجھے اس طرح رونے کی آواز آئی جیسے کوئی عورت دردزہ کی وجہ سے چلاتی ہو۔مجھے تعجب ہوا اور میں نے کان لگا کر آواز کو سنا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا کر رہے ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اے خدا! طاعون پڑی ہوئی ہے اور لوگ اس کی وجہ سے مر رہے ہیں۔اے خدا! اگر یہ سب لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔اب دیکھو طاعون وہ نشان تھا جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔طاعون کے نشان کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں سے بھی پتا چلتا ہے۔لیکن جب طاعون آتی ہے تو وہی شخص جس کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے طاعون آتی ہے خدا تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ ! اگر یہ لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔پس مومن کو عام لوگوں کے لئے بددعا نہیں کرنی چاہئے کیونکہ وہ انہی کے بچانے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ایک مومن دنیا کو بچانے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔اگر وہ ان کے لئے بددعا کرے گا تو وہ کس کو بچائے گا ؟ احمدیت قائم ہی اس لئے ہوئی ہے کہ وہ اسلام کو بچائے۔احمدیت قائم ہی اس لئے ہوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بچائے اور ان کی عظمت انہیں واپس دلائے۔بنو امیہ کے زمانے میں مسلمانوں کو جو شوکت اور عظمت حاصل تھی حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں آج وہی شوکت و عظمت احمدیت مسلمانوں کو اس شرط کے ساتھ دینا چاہتی ہے کہ بنو عباس اور بنوامیہ کی خرابیاں ان میں نہ آئیں۔پس جن لوگوں کو اعلیٰ مقام تک پہنچانے کے لئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے ان کے لئے ہم بددعا کیسے