خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 47

خطبات مسرور جلد 13 47 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء کی جائے اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے کہ اس سے مجھ کو یہ ثواب ہوگا یا یہ درجہ ملے گا۔‘ ( اس سوچ میں نہیں درود بھیجنا، نہ دعا کرنی ہے کہ مجھے کوئی ثواب ہوگا یا درجہ ملے گا ) ” بلکہ خالص یہی مقصود چاہئے کہ برکات کاملہ الہیہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوں اور اس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے اور اسی مطلب پر انعقاد ہمت چاہئے اور دن رات دوام توجہ چاہئے۔یہاں تک کہ کوئی مراد اپنے دل میں اس سے زیادہ نہ ہو۔( مستقل مزاجی سے کام کریں۔) پس جب اس طور پر یہ درود شریف پڑھا گیا تو وہ رسم اور عادت سے باہر ہے اور بلا شبہ اس کے عجیب انوار صادر ہوں گے۔اور حضور تام کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ اکثر اوقات گریہ و بکا ساتھ شامل ہو اور یہاں تک یہ تو جه رگ وریشہ میں تا خیر کرے کہ خواب اور بیداری یکساں ہو جاوے۔“ ( مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 522-523 مکتوب بنام میر عباس علی شاہ مکتوب نمبر 10 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ) پھر دعاؤں اور درود کے لئے کوشش کے بارے میں اپنے ایک مرید کو ایک خط میں آپ فرماتے ہیں کہ : ”نماز تہجد اور اؤ راد معمولہ میں آپ مشغول رہیں۔تہجد میں بہت سے برکات ہیں۔بیکاری کچھ چیز نہیں۔بیکار اور آرام پسند کچھ وزن نہیں رکھتا۔“ پھر فرمایا ”وَقَالَ اللہ تعالیٰ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) ( کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ جو میرے رستے میں جہاد کرے گا اس کو ہم اپنے رستوں کی ہدایت دیں گے۔فرمایا کہ ) ” درود شریف وہی بہتر ہے کہ جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہے اور وہ یہ ہے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِمید مجید فرمایا: "جو الفاظ ایک پرہیز گار کے منہ سے نکلتے ہیں ان میں ضرور کسی قدر برکت ہوتی ہے۔پس خیال کر لینا چاہئے کہ جو پر ہیز گاروں کا سردار اور نبیوں کا سپہ سالار ہے۔اس کے منہ سے جو لفظ نکلے ہیں“ (یعنی یہ درود شریف کے الفاظ جو ابھی پڑھے گئے ہیں ) وہ کس قدر متبرک ہوں گے۔غرض سب اقسام درود شریف سے یہی درود شریف زیادہ مبارک ہے۔یہی اس عاجز کا ورد ہے۔“ (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہی اس عاجز کا ورد ہے ) اور کسی تعداد کی پابندی ضرور نہیں۔اخلاص اور محبت اور حضور اور تضرع سے پڑھنا چاہئے اور اس وقت تک ضرور پڑھتے رہیں کہ جب تک ایک