خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 631 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 631

خطبات مسرور جلد 13 631 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23اکتوبر 2015ء اس پروگرام کو اگر کوئی کامیابی ہوئی ہے تو اللہ کے فضل سے ملی ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کوسمجھتے ہوئے ہم سے جو کوشش ہو سکتی ہے ہمیں کرنی چاہئے تا کہ ہم بھی اس کا حصہ بن جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔نماز جمعہ کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم مرزا اظہر احمد صاحب کا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے تھے۔14 / اکتوبر 2015ء کو ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَانَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹوں میں سے یہ آخری بیٹے حیات تھے جن کی وفات ہو گئی۔حضرت مصلح موعود کی طرف سے لڑکوں کی یہ نسل جو دوسری نسل تھی ان کی وفات کے بعد یہ دوسری نسل تو اب ختم ( ہوگئی ہے )۔اللہ کرے تیسری نسل اور چوتھی نسل اور آئندہ نسلیں بھی دین پر قائم رہنے والی ہوں۔17 اکتوبر 1930ء کو یہ قادیان میں حضرت اُمم ناصر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ابتدائی تعلیم انہوں نے قادیان سے حاصل کی۔وہیں میٹرک کیا۔پارٹیشن کے بعد آپ نے جامعہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا۔جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک سال کے لئے آپ نے تحریک جدید میں بطور انچارج مشن کام کیا۔اس کے بعد آپ کی تقرری 21 اکتوبر 1961 ء کو صدر انجمن احمد یہ میں بطور نائب افسر خزا نہ ہوئی۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا کوئی بیٹا جماعت کے مالی معاملات میں بھی معاونت کرے۔اس لئے یہ کہا جاتا ہے کہ شاید اسی وجہ سے حضرت مصلح موعودؓ نے خزانے میں ان کا تقرر فرمایا تھا۔ساری زندگی ان کی دفتر خزانہ میں خدمت کرتے ہوئے گزری اور 1992 ء میں وہاں سے ریٹائر ہوئے تھے۔فرقان بٹالین میں بھی ان کو خدمت کی توفیق ملی۔خلافت سے بھی بڑا گہرا تعلق تھا۔اور میرے ماموں تھے لیکن بڑا احترام کا تعلق انہوں نے رکھا۔پہلے جلسے پر 2003ء میں میں نے دیکھا کہ لوگوں کے رش میں کھڑے تھے اور جب میرے پر ان کی نظر پڑی یا میری ان پر نظر پڑی ہے تو بڑے جذباتی انداز میں انہوں نے ہاتھ ہلایا اور ایک خالص وفاء تعلق اور خلوص ان کے چہرے سے جھلک رہا تھا۔غریب پروری کرنے والے بھی تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے رحمت اور شفقت کا سلوک فرمائے۔1956ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان کا نکاح قیصرہ خانم صاحبہ بنت خان سعید احمد خان صاحب سے پڑھا تھا۔ان کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ایک دامادان کے ربوہ میں ہی واقف زندگی