خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 599
خطبات مسرور جلد 13 599 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09اکتوبر 2015ء کے قابل ہوں گے۔پس ان باتوں کی تلاش کریں جن کی اطاعت کرنی ہے ورنہ تو یہ صرف دعوی ہے اور صرف ظاہری اعلان ہے کہ آپ جو بھی معروف فیصلہ کریں گے اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھوں گا یا عورت ہے تو ضروری سمجھوں گی۔یا اجتماعوں پر کھڑے ہو کر یا بیعت کے وقت یہ اعلان کر دیں کہ خلافت احمدیہ کے استحکام کی ہم کوشش کرتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہر گھر اس طرف توجہ دینے والا ہو اور اللہ تعالیٰ نے ہماری تربیت کے لئے جو سہولت مہیا فرمائی ہے ہم اس سے بھر پور استفادہ کرنے والے ہوں۔اور صرف تربیت ہی نہیں بلکہ اسلام کی تعلیم کو پھیلانے میں بھی یہ (MTA) بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔اگر کسی وجہ سے لائیو نہیں بھی سن سکتے تو ریکارڈنگ سنی جاسکتی ہے۔انٹرنیٹ پر یہ پروگرام موجود ہے۔اور خاص طور پر اس میں خطبات اور بہت سارے اور بھی خاص خاص پروگرام ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ جہاں آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خاص تعلق جوڑنے والے ہوں وہاں آپ کے بعد جاری نظام خلافت سے بھی پختہ تعلق ہو اور اطاعت کے نمونے دکھانے والے ہوں اور یہی تعلق اور اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے گزارتے ہوئے خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا اور اس کی رضا حاصل کرنے والا بناتی ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 49 مسند ابی هریرة حدیث نمبر 7330 عالم الكتب بيروت مطبوعه 1998ء) نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو ہمارے مربی سلسلہ مکرم حافظ محمد اقبال وڑائچ صاحب کا ہے۔آپ 2 اکتوبر کو ایک حادثے میں 49 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُون 2 اکتوبر کو یہ صبح اکیلے اپنے آبائی گاؤں چک پنیارا اپنے چچا کو ملنے کار پر جارہے تھے۔بھلوال کے نزدیک ریلوے پھاٹک پر کر اس کرتے ہوئے انہوں نے شاید دیکھا نہیں ،ٹرین آئی اور ٹرین کی زد میں آگئے۔کار گھسیٹتی چلی گئی۔بہر حال ظاہری طور پر تو ان کو چوٹیں نہیں تھیں۔پولیس بھی پہنچ گئی۔پولیس نے ایمبولینس منگوائی یا گاڑی منگوائی اس میں بٹھا کر ہسپتال پہنچایالیکن ہسپتال جا کر جانبر نہ ہو سکے۔حافظ محمد اقبال صاحب کے دادا کا نام چوہدی فضل احمد صاحب تھا۔آپ کے پڑدادا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے جن کا نام چوہدری اللہ بخش صاحب تھا۔1901ء میں ان کے پڑدادا نے بیعت کی تھی۔ان کے پڑدادا کا نام پہلے رسول بخش تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بدل کے اللہ بخش رکھ دیا تھا۔ان