خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 585 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 585

خطبات مسرور جلد 13 585 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اکتوبر 2015ء کیا بنی اور کس طرح یہ سب کچھ ہوا۔اگر یہ کوئی سازش اور شرارت تھی تو ان باتوں سے جماعت کی ترقی نہیں رک سکتی۔ہاں جیسا کہ میں نے کہا ہے انتظامیہ کو اپنی کمزوریاں دیکھنے اور ان پر غور کرنے کے لئے اس واقعہ کو ہوشیار کرنے والا ہونا چاہئے۔جیسا کہ میں نے عید کے خطبے میں کہا تھا کہ نقصان پہنچانے اور آ گئیں بھڑ کانے کا مقصد جماعت کو یانی کے مقاصد کو ختم کرنا ہوتا ہے اس میں تو یہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔اگر کسی کا بدارادہ تھا بھی تو اس سے معمولی نقصان تو ہو جاتا ہے۔اگر کوئی معمولی نقصان پہنچتا ہے تو اللہ صبر کرنے والوں کو بشارت کا وعدہ بھی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے سے ہی آپ کے خلاف سازشیں اور آ گئیں لگانے کا سلسلہ جاری ہے لیکن کیا ہو رہا ہے، کیا نتیجہ نکل رہا ہے۔جماعت کی ترقی ہمیں ہر جگہ نظر آتی ہے۔ایک آگ تو ظاہری آگ ہے لیکن ایک آگ انسان کے اندر کی حسد، کینہ اور بغض کی آگ بھی ہے۔گو بظاہر تو ہماری مسجد سے متصل ایک حصے کو آگ لگی لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہمارا تو یہ نقصان انشاء اللہ تعالیٰ پورا ہو جائے گا اور انشاء اللہ ہم اللہ تعالیٰ کی بشارتوں سے حصہ بھی لینے والے ہوں گے اور یہ صبر اور دعا ہمیں اللہ تعالیٰ کی ٹھنڈک اور ٹھنڈی چھاؤں کی آغوش میں لے لے گا لیکن اس ظاہری آگ سے بھی مخالفین کی حسد کی آگیں بھی بھڑک رہی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا بہت سے لوگ آگ لگنے پر خوش ہیں لیکن پھر اس بارے میں افسوس کرنے لگ گئے کہ ان کی مسجد کیوں نہیں جلی، ان کا اتنا تھوڑا نقصان کیوں ہوا ہے، اس سے بہت زیادہ نقصان ہونا چاہئے تھا۔گویا جو ظاہری آگ ہمارے خلاف بھڑکائی تھی وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین کو جلا رہی ہے حسد کی صورت میں، کینہ کی صورت میں بغض کی صورت میں۔جماعت احمدیہ کے کام تو اُس وقت بھی نہیں رکے تھے جب آگ لگنے کا واقعہ ہورہا تھا۔لندن سے باہر یا یو کے (UK) سے باہر کی بات نہیں ہے بلکہ یہاں لندن میں ہم اپنے کام کئے جارہے تھے۔بعض ہمارے ورکر پریشان ضرور تھے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا کہ افسوس تو نقصان پر ہوتا ہے، ایک فطری امر ہے لیکن افسوس سر پر سوار نہیں کر لیا جاتا۔ایم ٹی اے کے انتظام کا ایک حصہ بھی یہیں ہے بلکہ بہت بڑا حصہ یہاں ہے۔اُس دن راہ ہدی کالائیو پروگرام تھا تو پروگرام والوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب ایم ٹی اے سٹوڈیو تک ہماری پہنچ نہیں ہے اور پتا نہیں وہاں کیا حالات ہیں ، اُس میں جا یا بھی نہیں جا سکتا اس لئے آج ریکارڈنگ دکھا دیں گے، ٹرانسمشن میں لائیو پروگرام نہیں کریں گے۔جب مجھے پتا چلا تو میں نے کہا مسجد فضل سے لائیو پروگرام ہوگا۔کوئی اس میں روک کی بات نہیں۔اور ایسے فیصلے مجھ سے پوچھے بغیر ان کو