خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 574

خطبات مسرور جلد 13 574 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء ہاتھ ایک خط لگا تو اس سے پتا لگا کہ یہ چھپ کے خاموشی سے غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ان کی بہو کہتی ہیں ایک دفعہ میں نے ان سے کہا باہر تبلیغ کا کوئی واقعہ سنا ئیں۔تو کہتے ہیں ایک واقعہ میں تمہیں آج سنادیتا ہوں۔کہنے لگے کہ میرا یہ معمول تھا کہ ہر روز نماز فجر کے بعد تھوڑا تھوڑا اندھیرا ہوتا تھا کہ میں تبلیغ کے لئے نکل جاتا تھا اور شام کو واپس آتا تھا۔ایک دن جب میں شام کو گھر واپس آیا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ میرے گھر کے باہر جمع ہیں۔میں پریشان ہوا کہ اللہ خیر کرے یہ لوگ میرے انتظار میں کیوں کھڑے ہیں۔اتنے میں دُور سے ہی انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مولانا صاحب مبارک ہو، مبارک ہو۔میں نے پوچھا کس بات کی مبارک۔لوگوں نے بتایا کہ آج صبح جب آپ گئے ہیں تو ایک شیر اور آپ اکٹھے پیدل چل رہے تھے۔یا تو شیر آپ کے آگے آگے چلتا تھا اور آپ شیر کے پیچھے ہوتے تھے یا پھر آپ آگے آگے چل رہے ہوتے تھے اور شیر آپ کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوتا تھا لیکن خدا نے آپ کو سلامت رکھا۔اس بات کی ہم مبارکباد دے رہے ہیں۔کہتے ہیں بہت سارے لوگوں نے جنگل میں اپنے کام کرتے ہوئے اس طرح دیکھا۔بڑے تہجد گزار تھے۔بڑی رقت سے نمازیں پڑھنے والے۔بہت سارے مبلغین نے، دوسروں نے ان کے بارے میں حالات لکھے ہیں۔اور حقیقت میں یہ بڑے متوکل انسان ، بڑے باہمت ، صابر اور دین کا درد رکھنے والے، دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے تھے۔جو بھی چند ایک واقعات بیان ہوئے ان میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔خلافت سے بھی ان کا بے انتہا تعلق تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی نیکیوں پر قائم رکھے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 09 اکتوبر 2015 ء تا15 اکتوبر 2015 ، جلد 22 شمارہ 41 صفحہ 05 09)