خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 573 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 573

خطبات مسرور جلد 13 573 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء لئے بہت مشکلات پیدا کیں اور ہر ممکن کوشش کی کہ مسجد کی زمین جماعت کے نام نہ ہو مگر آپ نے بڑے حوصلے کے ساتھ ان مشکلات کا سامنا کیا اور پوری تندہی کے ساتھ خدمات سلسلہ میں مصروف رہے۔پیغام حق پہنچانے کے ساتھ مرکز کو بھی تفصیلی طور پر جماعتی حالات سے آگاہ رکھا اور پھر انہوں نے 1972ء میں خلیفتہ اسیح الثالث کو لکھا کہ سرینام میں مسجد اور مشن ہاؤس سے جماعت کو ایک مرکز میسر آ گیا ہے مگر گیانا میں اب تک کسی قسم کا مرکز نہیں ہے۔وہ مرکز سے محروم ہے اور بارہ سال سے وہاں مبلغ سلسلہ ہے جس کی وجہ سے میرے دل میں بڑی تڑپ ہوتی ہے کہ وہاں بھی مسجد بنے۔ماریشس میں جب رہے ہیں تو وہاں کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ بڑے خاص حالات میں ان کی وہاں تقرری ہوئی تھی۔1954ء میں جب مکرم بشیر الدین عبید اللہ صاحب کی بعض لوگوں نے بات ماننے سے انکار کر دیا اور جماعت وہاں دو حصوں میں بٹ گئی۔ایک حصہ اطاعت سے باہر جانے لگا اور انہوں نے اپنی علیحدہ ایسوسی ایشن بنالی۔اس پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے ان کو جو (اس وقت) فلسطین میں تھے پیغام دیا کہ فوری طور پر ماریشس پہنچیں۔آپ ماریشس پہنچے تو آپ کے خلاف امیگریشن میں شکایت کر دی گئی۔لیکن ان کے پاس کیونکہ برٹش نیشنیلٹی تھی اس لئے حکومت کو بہر حال ان کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینی پڑی۔انہوں نے بڑی حکمت سے حالات کا جائزہ لیا اور پھر مسجد پہ جو منافقین نے قبضہ کیا ہوا تھا یا مرتدین نے قبضہ کیا ہوا تھا اس کو بڑی حکمت سے بڑے طریقے سے ( ختم کرایا ) آپ مسجد میں گئے اور وہاں نمازیں پڑھانی شروع کیں اور آہستہ آہستہ جو مبائع جماعت تھی اس کو دوبارہ مسجد میں جمع کرنا شروع کیا اور یہیں اس دوران میں ماریشس میں ان کی دوسری شادی بھی ہوئی تھی۔یہاں انہوں نے فرنچ میں بعض کتابیں بھی لکھیں جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے اور انہوں نے اللہ کے فضل سے جماعت کو وہاں اس فتنے سے بچایا اور نئے سرے سے جماعت کو جمع کر دیا۔ایک ہاتھ پہ اکٹھا کر دیا۔مسجد مبارک میں جمعہ پڑھنے کی بڑی خواہش ہوتی تھی اور جس شخص سے انہوں نے جمعہ پر جانے کے لئے کہا ہوا تھا کہ مجھے اپنی کار پہ لے جایا کرو، بڑھاپے میں بھی اس کا انتظار کرتے تھے اور اس لئے کہ اس کو تکلیف نہ ہو اور انتظار نہ کرنا پڑے اپنے گھر کے دروازے کے باہر ہی کرسی بچھا کر بیٹھ جاتے تھے تا کہ جب بھی وہ آئیں فوری طور پر ان کے ساتھ جاسکیں۔غریبوں کی مدد کرتے تھے جو بھی ان کی توفیق تھی۔ایک دفعہ ایک غریب نے لکھا کہ آپ میرے بچے کا تعلیمی خرچ بھجواتے ہیں اس دفعہ اس کو کچھ زیادہ رقم کی ضرورت ہے تو زیادہ پیسے کا منی آرڈر بھجوا دیں۔کبھی گھر میں کسی سے ذکر نہیں کیا۔اتفاق سے ان کی بہو کے