خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 572
خطبات مسرور جلد 13 572 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء دن کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب " ( حضرت خلیفہ اسیح الثالث) نے بلایا کہ مدرسہ کیوں نہیں آرہے؟ تو انہوں نے کہا کہ فیس نہ تھی اور شرمندگی کی وجہ سے آنا چھوڑ دیا ہے۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے کہا کہ فیس کا انتظام میں کر دیتا ہوں۔آپ نے کہا کہ صدقہ میں نے نہیں لینا۔قرضہ حسنہ دے دیں۔اس طرح آپ نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔مگر 1940 ء سے 1942 ء تک حالات نہایت غربت کے تھے۔فاقہ کشی کی کیفیت رہی۔کہتے ہیں ایک دفعہ تو یہ حالت تھی کہ چھپن گھنٹے تک کچھ کھانے کو نہ ملا مگر کسی سے ذکر تک نہ کیا اور چھپن گھنٹے کے بعد ایک دوست نے کہا کہ آج آپ میرے ساتھ کھانا کھا ئیں۔اس طرح چھپن گھنٹے کے بعد ایک روٹی خدا تعالیٰ نے آپ کو کھلائی اور اس ایک روٹی کے بعد پھر 48 گھنٹے فاقہ رہا۔کہتے ہیں کہ یہ فاقہ کشی جو تھی یہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے برداشت کی ٹریننگ تھی۔تبلیغ کی مشکلات میں یہ ہمیشہ میرے کام آیا۔تبلیغ کی مشکلات کا کئی دفعہ ذکر کیا۔افریقی دوستوں کے ساتھ تبلیغی دورے پر جاتے تھے تو فاقے کرنے پڑتے تھے۔کبھی اچھا کھانا مل جاتا تھا اور جو کچھ میسر ہوتا کھا لیتے اور کبھی یہ دل میں خیال نہیں آیا کہ ہم دین کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔پس یہ بات آج کے واقفین زندگی کو سامنے رکھنی چاہئے۔آجکل اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ ہی حالات تو بہت بہتر ہیں اور کبھی ایسی نوبت نہیں آتی کہ کسی کو فاقہ کرنا پڑے۔آپ نے ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی۔میٹرک کے بعد وقف کیا اور اپنی آخری سانس تک اس عہد کو پورا کیا کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ان کی پوتی نے یہ لکھا ہے کہ دادا جی بہت کم اپنے حالات کا ذکر کرتے تھے جو ان کو تبلیغ کے راستے میں پیش آئے ہیں۔لیکن ایک بات انہوں نے بتائی کہ جب تبلیغ کے لئے جاتے تو صبح دو روٹیاں بنا لیتے۔ایک صبح کھا لیتے اور دوسری ساتھ باندھ لیتے۔راستے میں کہیں بھی پانی یا چائے کے ساتھ کھا لیتے اور اس کی تصدیق جب افریقہ میں رہے ہیں تو وہاں کے لوگوں نے بھی کی کہ اس طرح دو روٹیاں بناتے تھے اور تبلیغ کے سفر پر نکل پڑتے تھے۔سور بنام کے مبلغ لکھتے ہیں کہ 1970ء تا 72ء میں ان کو مبلغ سلسلہ گیانا کی حیثیت سے خدمت کی توفیق ملی اور آپ نے سورینام کے مختلف جگہوں کے متعدد دورے کئے۔25 را پریل 1971ء کو جماعت کی پہلی مسجد کے افتتاح کی تاریخی سعادت حاصل کی۔موصوف نے انتہائی نامساعد حالات میں بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ یہاں وقت گزارا۔غیر مبائعین کی مخالفت کے علاوہ ( وہاں غیر مبائعین بھی بہت زیادہ ہیں ) اُس وقت جماعت کے اندر خواجہ اسماعیل کا ایک گروہ پیدا ہو چکا تھا جنہوں نے آپ کے