خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 41

خطبات مسرور جلد 13 41 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء لگ جاتے ہیں یا سمجھ آ جاتے ہیں۔لیکن کچھ علم حاصل کر کے سیکھنا بھی اسلامی تعلیم کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ علم حاصل کرو اور سیکھو بھی اور یہ فہم اور ادراک حاصل کرنے کی کوشش بھی کرو۔اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بھی بڑھاؤ۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ یہ سیکھو تا کہ حکمت جلد سے جلد سمجھ آ جائے۔نہ کہ اس انتظار میں رہو کہ آہستہ آہستہ سیکھیں گے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کا فہم اور ادراک بھی حاصل ہو جائے اور پھر یہ فہم اور ادراک حاصل ہونے کی وجہ سے بہتر رنگ میں اس پر عمل ہو سکے۔درود شریف کی اہمیت پس اس حوالے سے اس وقت میں بعض احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات پیش کروں گا جو درود شریف کی اہمیت اور اس کے فوائد کو بھی واضح کرتے ہیں۔ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس محبت کے تقاضے کی وجہ سے ہمارے دل اُس وقت چھلنی ہوتے ہیں ب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی نازیبا الفاظ کہے جائیں یا کسی بھی طرح غلط رنگ میں آپ کی طرف کوئی بات منسوب کی جائے۔لیکن اس محبت کا حقیقی اظہار اور اس کا فائدہ کس طرح ہوگا ، اس بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہوگا جو اُن میں سے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہوگا۔(سنن الترمذى كتاب الصلوة ابواب الوتر باب ما جاء في فضل الصلوة۔۔۔حديث نمبر (484) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی محبت کا اظہار جس کے نتیجے میں آپ کا قرب ملے درود شریف پڑھنے سے ہی ہے۔پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز اس دن کے خطرات سے اور ہولناک مواقع سے تم میں سے سب سے زیادہ محفوظ اور نجات یافتہ وہ شخص ہوگا جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہوگا۔فرمایا کہ میرے لئے تو اللہ تعالیٰ کا اور اس کے فرشتوں کا درود ہی کافی تھا۔یہ تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ثواب پانے کا ایک موقع بخشا ہے کہ تم درود بھیجو۔(کنز العمال جزء اول صفحه 254 كتاب الاذكار / قسم الاقوال حدیث نمبر 2225 دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) پھر دعا کرنے کے صحیح طریق کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت فضالہ بن عبید